مستونگ کو کوئٹہ اور ضلع کچھی کو سبی میں شامل اور قلات ڈویژن کو ختم کرناعوام دشمن اقدام ہے، نواب اسلم رئیسانی و سرداران سراوان

مستونگ کو کوئٹہ اور ضلع کچھی کو سبی میں شامل اور قلات ڈویژن کو ختم کرناعوام دشمن اقدام ہے، نواب اسلم رئیسانی و سرداران سراوان

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ:سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان رکن صوبائی اسمبلی چیف آف ساراوان سراوان نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے حکومت کی جانب سے مستونگ کو کوئٹہ اور ضلع کچھی کو سبی ڈویژن میں شامل کرنے اور قلات ڈویژن کو ختم کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اس عوام دشمن اقدام اور پالیسیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ اقدام سے کسی بھی فورم پر نہ تو عوام کو ہی نہ ہی عوام نمائندوں کو اعتماد میں لیا گیا جوکہ لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے دفعات 4 ، 5 اور 6 (الف) کی صریحاً” خلاف ورزی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں چیف آف بیرک نواب محمد خان شاہوانی سردار عاصم جان سرپرہ ممتاز قانون دان ریاض احمد ایڈووکیٹ ،عتیق احمد خان ایڈووکیٹ ، غلام رسول لہڑی ایڈووکیٹ ، محی الدین خان ایڈووکیٹ اور دیگر نے شرکت کی اجلاس میں ضلع مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن اور ضلع کچھی کو سبی ڈویژن میں شامل کرنے اور قلات ڈویژن کو ختم کرنے کی حکومتی اقدام کی شدید مذمت کی گئی سرسرداران سراوان نواب اسلم خان رئیسانی نے حکومتی اقدام کو بدنیتی انتہائی شر انگیز اور عوام و بلوچستان دشمن قرار دیا اجلاس میں کہا گیا کہ مستونگ تاریخی ثقافتی سیاسی قومی اور جغرافیائی لحاظ سے قلات کا حصہ اور اٹوٹ انگ رہا ہے جسے ایک غیر معروف حکومت ختم کا کوئی اختیار اور جواز نہیں جبکہ قلات کی اپنی صدیوں پر محیط تاریخ ہے اور قلات ڈویژن کو ہی ختم کرنا گھناو¿نی سازش اور ایک خطرناک منصوبہ ہے اجلاس نے اس امر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقتدرہ اور موجودہ حکومت بلوچستان کی تاریخی ورثہ و روایات ،زبان و ثقافت اور جغرافیہ سے والہانہ محبت ہیں اجلاس میں کہا کہ بلوچستان پہلے سے مقتدرہ اور حکومتی اقدامات بیڈ گورننس سے شدید متاثر ہے مزید عوام کی خواہشات کے برعکس اقدامات عوام میں غم و غصہ کو ہوا دینگے انہوں نے کہا کہ دنیا میں ریاستیں اور حکومتیں عوام کے لی¿ے مشکلات کے بجائے آسانیاں پیدا کرتی ہے اور ان کی خواہشات اور شناخت کا احترام کرتی ہیں لیکن شومی ءقسمت یہاں کے حکمران اور حکومتوں کو عوام کی زبان ثقافت جغرافیہ اور شناخت سے مسئلہ اور دشمنی ہے اجلاس میں کہا کہ قلات مستونگ کچھی کی تاریخ اور عوامی خواہشات کو تہہ و بالا کرنا ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ان علاقوں سے ہماری شناخت پہچان تاریخ جڑی ہوئی ہے اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا کہ مزکورہ عوام دشمن اقدام اور پالیسیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائیگی مزید برآں اجلاس کو بتایا گیا کہ مذکورہ اقدام سے کسی بھی فورم پر نہ تو عوام کو ہی نہ ہی عوام نمائندوں کو اعتماد میں لیا گیا جوکہ لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے دفعات 4 ، 5 اور 6 (الف) کی صریحاً” خلاف ورزی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!