ظلم وبربریت کے ہر شکل کے بدترین مخالف ہیں‘ نواب ایاز جوگیزئی

ظلم وبربریت کے ہر شکل کے بدترین مخالف ہیں‘ نواب ایاز جوگیزئی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ : پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری و پشتون قومی جرگے کے کنونیئر نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے گزشتہ روز بے دردی سے شہید کئے جانیوالے بلال خان شہید کے گھر جاکر ان کے والد سے تعزیت کی اور کہا کہ ہم ظلم وبربریت کے ہر شکل کے بدترین مخالف ہیں اور یہی ہماری تاریخی جدوجہد کا حصہ ہے جسکے لئے خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی اور باچا خان نے طویل قید وبند کاٹی اور خان شہید نے جام شہادت نوش فرمائی تاکہ مظوم کو ظالم کے ظلم سے نجات دلائے. بلال شہید کی شہادت انتہائی افسوسناک اور دردناک واقعہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے. بلال شہید اور دیگر دو زخمیوں کے قاتلوں کی گرفتاری اور انہیں کیفرکردار تک پہنچانا ریاست اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے.ہماری مرکزی و صوبائی حکومتیں عوام کو امن و انصاف کی فراہمی میں مکمل ناکام ہوچکی ہیں جس ریاست میں اسکا چیف جسٹس خود انصاف کیلئے ترس رہا ہو وہاں عوام کو کیسے انصاف مہیا ہوسکے گا پارلیمنٹ مکمل بے اختیار ہے کیونکہ الیکٹڈ نہیں سیلیکٹڈ ہے. آئے روز بلیلی سمیت تمام چیک پوسٹوں پر غیرت من پشتونوں کی تذلیل کا سلسلا جاری ہے.کراچی سے وزیرستان تک پشتون محکومی و محرومی کا شکار ہے ہمیں قبائلیت سے بالاتر ہوکر پشتون بننا اور اپنے حق کیلئے لڑنا اور ایک خود دار قوم کی حیثیت سے رہنا ہوگا. تمام دنیا کا قانون ہے کہ ہمسائے کو وہاں کے اصلی باشندوں کے قوانین طور طریقوں اور روایات کے ساتھ رہنا ہوگا. نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ میں آج جس غم کے کمبل پر فاتحہ پڑھنے آیا ہوں جہاں بہت سارے لوگ آئے کیونکہ یہ ایک ایسا وحشت اور بربریت پر مبنی واقعہ تھا جو کہ حضرت آدم علیہ سلام کے بعد پتھر کے زمانے میں انسان ایک دوسرے پر ظلم کے پہاڑ توڑتے رہے اور پھر اللہ تعالی نےانسانی شعور کیلئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے اور ان تمام کامقصد اللہ تعالی کے بندوں میں سے مظلوموں پر ظالم کے ظلم و جبر وحشت و بربریت کا خاتمہ تھا. آج بھی تمام مخلوقات میں سب سے مضر انسان ہے. انسانوں کے دلوں سے اگر خدا تعالی اور ریاست کا خوف ختم کیا جائے تو انسان سب سے زیادہ خطرناک ہے. اسلام کے نزول کے وقت بھی ظلم وستم کا دور دورہ تھا اور بہت پہلے یورپ اور امریکہ بھی بدترین وحشت سے گزر چکے ہیں لیکن آج امریکہ میں ایک سیاہ فام انسان کے ساتھ پولیس کی جانب سے ظلم کے خلاف تمام امریکی عوام سڑکوں پر نکل آئی اور ظالم کو کیفر کردار تک پہنچایا. ہمارے ہاں ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرہی کیونکہ وہ لوگ جن کے ابا اجداد نے اس ملک کے بنانے میں بڑی محنت کی اور انکے اپنے بھی بڑے خدمات ہیں قاضی فائز عیسی آج خود اس ریاست میں انصاف کا متلاشی ہے. یہ ریاست عوام کو انصاف اور امن دینے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے. کوئٹہ شہر پشتونوں کے گزارے اور کاروبار کا شہر ہے لیکن پشتون اس میں خوار ہے . اانہوں نے کہا کہ جو افسوسناک واقعہ ہوا ہے اسکی تمام تر ذمہ داری ریاست اور ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے ریاست فرقہ واریت کی آڑ میں لوگوں کو لڑانے سے باز آئے ایک طرف غریب عوام عالمی وبا کورونا کا سامنا کر رہی ہے تو دوسری جانب بدامنی لاقانونیت اور مہنگائی کا بدترین طوفان انہیں کھائی جارہی ہے ہزارہ برادری بھی اس شہر کے باسی ہیں اچھے برے سب میں ہونگے اچھوں کو اب مثبت کردار ادا کرنے کا موقعہ ملا ہوا ہے. پشتونوں کو بربادی اور محکومی سے نکالنے کا واحد حل اتحاد اتفاق اور بھائی چارے میں جس کیلئے میں پشتونوں کے تمام سیاسی مذہبی قیادت کو مل بیٹھنے کا اپیل کرتا ہوں. پشتونوں کو مزید مجبور نہ کیا جائے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!