کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماءنوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسا نی نے حکومت سے فوری طور پر تعلیمی کانفر س بلاکر بلوچستان کے طلباءکے جائز مسائل کا حل نکالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں صوبے کے 86 فیصد لوگ ا نٹر نیٹ کی سہولت سے محروم ہوں،کوئٹہ میں 8 سے 10جبکہ دیگر اضلاع میں 21گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جارہی ہو ایسے میں آن لائین کلاسز بلوچستان کے طلباءکے ساتھ سنگین مذاق ہے۔ طلباءکا مطالبہ جائز ہے جسے فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار ا نہوں نے منگل کو بلوچ اسٹوڈ نٹس آرگنائزیش کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ کے دورے کے موقع پر پریس کا نفر س کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سابق وفاقی وزیر میر ہمایوں عزیز کرد، بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل منیر جالب، وائس چیئرمین خالد بلوچ، ا نفارمیشن سیکرٹری ناصر بلوچ، بی این پی کی سنٹرل کمیٹی کے رکن جاوید بلوچ، پشتو خوا اسٹوڈ ٹس آرگنائزیش کے ملک عمر، پشتو سٹوڈ ٹس فیڈریش کے عالمگیر خان مندوخیل سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ اس موقع نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسا نی کو طلباءتنظیموں کے رہنماو¿ں نے طلباءکو درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسا نی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج طلباءتنظیموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے یہاں آیا ہوں ان کا مطالبہ جائز ہے صوبے کے 86 فیصد لوگ ا نٹر نیٹ کی سہولت سے محروم ہیں صرف 14 فیصد کو ا نٹر نیٹ کی سہولت میسر ہے جہاں ا نٹر نیٹ کی سہولت موجود ہے وہاں بھی کبھی فورجی کے سگنلز ہوتے ہیں تو کھبی نہیںس کے علاوہ بجلی کی طویل لوڈشیڈ نگ نے تمام معاملات مفلوج کردیئے ہیں۔ کوئٹہ جو صوبائی دارالحکومت ہے میں 8 سے 10گھنٹے کی لوڈشیڈ نگ کی جارہی ہے جبکہ دیگر اضلاع میں تو 21 گھنٹے تک اس کا دورا نیہ ہوتا ہے ایسے حالات میں آن لائن کلاسز کا اجراءبلوچستان کے طلباءاور آنے والی نسلوں کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔ ا نہوں نے کہا کہ طلباءتنظیموں کی جا نب سے پٹیش دائر کر نے کے بعد حکومت کے ترجمان کی جا ب سے تعلیمی اداروں کے لئے ایس او پیز بنا نے کے بیان سے ا ندازا لگایا جاسکتا ہے کہ موجودہ حکومت منتخب نہیں بلکہ سلیکٹڈ ہے۔ ا نہوں نے کہاکہ قومیں اپنی آ نے والی نسلوں کی بقاءکے لئے منصوبہ بندی کرکے جدوجہد کرتی ہیں مگر بلوچستان کوکئی صدیوں سے ایسے جعلی مسائل میں ڈال دیا گیا ہے جس کی وجہ سے تمام شعبہ ہائے زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں اور زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے اور اب کورو نا کے ذریعے تمام شعبہ ہائے ز ندگی کو متاثر کر نے سمیت تعلیمی نظام کو برباد کیا جارہا ہے۔ 6 ماہ سے تعلیم اداروں کی بندش سے آ نے والی نسلوں کا نقصان ہوا ہے۔ ا نہوں نے کہا کہ بھلے موجودہ حکومت سلیکٹڈ اور نااہل ہے پھر بھی ہمارا اس سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر تعلیمی کا نفر نس بلائی جاکوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماءنوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسا نی نے حکومت سے فوری طور پر تعلیمی کانفر س بلاکر بلوچستان کے طلباءکے جائز مسائل کا حل نکالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں صوبے کے 86 فیصد لوگ ا نٹر نیٹ کی سہولت سے محروم ہوں،کوئٹہ میں 8 سے 10جبکہ دیگر اضلاع میں 21گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جارہی ہو ایسے میں آن لائین کلاسز بلوچستان کے طلباءکے ساتھ سنگین مذاق ہے۔ طلباءکا مطالبہ جائز ہے جسے فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار ا نہوں نے منگل کو بلوچ اسٹوڈ نٹس آرگنائزیش کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ کے دورے کے موقع پر پریس کا نفر س کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سابق وفاقی وزیر میر ہمایوں عزیز کرد، بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل منیر جالب، وائس چیئرمین خالد بلوچ، ا نفارمیشن سیکرٹری ناصر بلوچ، بی این پی کی سنٹرل کمیٹی کے رکن جاوید بلوچ، پشتو خوا اسٹوڈ ٹس آرگنائزیش کے ملک عمر، پشتو سٹوڈ ٹس فیڈریش کے عالمگیر خان مندوخیل سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ اس موقع نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسا نی کو طلباءتنظیموں کے رہنماو¿ں نے طلباءکو درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسا نی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج طلباءتنظیموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے یہاں آیا ہوں ان کا مطالبہ جائز ہے صوبے کے 86 فیصد لوگ ا نٹر نیٹ کی سہولت سے محروم ہیں صرف 14 فیصد کو ا نٹر نیٹ کی سہولت میسر ہے جہاں ا نٹر نیٹ کی سہولت موجود ہے وہاں بھی کبھی فورجی کے سگنلز ہوتے ہیں تو کھبی نہیںس کے علاوہ بجلی کی طویل لوڈشیڈ نگ نے تمام معاملات مفلوج






