اے جی پی آر میں کرپشن کے خاتمے کیلئے اصلاحات کا فیصلہ ‘ عمران خان کا موزانہ کرپٹ لیڈروں نہیں کیا جاسکتا ،شبلی فراز

اے جی پی آر میں کرپشن کے خاتمے کیلئے اصلاحات کا فیصلہ ‘ عمران خان کا موزانہ کرپٹ لیڈروں نہیں کیا جاسکتا ،شبلی فراز

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہاہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا موازنہ دیگر سیاسی جماعتوں کے کرپٹ لیڈروں سے نہیں کیا جاسکتا ہے ، ملک میں جب بھی احتساب کی بات ہوتی ہے تو اپوزیشن شور شروع کردیتی ہے مشورہ دیتا ہوں کہ اپوزیشن اپنا وقت ضائع نہ کرے حکومت کسی صورت بھی احتساب کے نعرے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ہفتہ کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ اس وقت اپوزیشن محض ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی صورت احتساب سے بچا جاسکے انہوںنے کہاکہ اپوزیشن کو ملکی معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور ان جماعتوں کو آپسمیں کسی بھی مسئلے پر اتفاق نہیں ہے انہوںنے کہاکہ ملک میں جب بھی کرپشن کے حوالے سے کوئی بات کی جاتی ہے تو اپوزیشن شور مچانا شروع کردیتی ہے اور ان کو خطرہ محسوس ہونا شروع ہوجاتا ہے انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان کا اپوزیشن جماعتوں کے سربراہوں کے ساتھ کوئی موازنہ نہیں ہے عمران خان عالمی سطح پر پہچانے جانے والی شخصیت ہیں جبکہ اپوزیشن میں سب وراثتی سیاست کے سیمبل ہیں انہوں نے کہاکہ عزیز بلوچ کی جے آئی ٹی میں ثابت ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی کا کریمنل مافیا کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے اسی طرح ن لیگ کی قیادت نے بھی ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا کر ملک سے راہ فرار اختیار کر لی ہے انہوںنے کہاکہ تحریک انصاف کے منشور میں کرپشن کا خاتمہ لکھا ہے اور اس پر ہر صورت عمل کیا جائے گا انہوںنے چیف جسٹس کی جانب سے ملک میں نئے احتساب کورٹس کی تشکیل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاکہ موجودہ حکومت کرپشن کے معاملے میں کسی کے ساتھ بھی نرمی نہیں برتے گی وفاقی حکومت نے اے جی پی آر میں ہونے والی اربوں روپے کی کرپشن کے خاتمے کےلئے اصلاحات لانے کا فیصلہ کر لیا ہے ، اے جی پی آر کے زریعے ہونے والی تمام ادائیگیوں کو شفاف بنانے کےلئے کمپیوٹرائز ڈ ای آر پی سسٹم کو فعال کیا جائے گا،اے جی پی آر میں گریڈ 21اور22کے افسران کی تعیناتیوں اور ٹرانسفرز کےلئے وزیر اعظم کی منظوری لی جائے گی اے جی پی آر میں تعینات افسران کے اثاثوں کی انکوائری ایف آئی اے کے زریعے سے کرائی جائے گی۔ہفتہ کے روز وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمرا مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم انسپکشن ٹیم کے چیرمین احمد یا ر ہراج نے کہاکہ وزیر اعظم انسپکشن ٹیم نے آے جی پی آر میں ہونے والی کرپشن کے خاتمے اور عوام کے پیسوں کے ضیاع کو روکنے کےلئے سفارشات تیار کی ہیں انہوںنے بتایاکہ اس وقت حکومتی سطح پر تمام خریداریوں کی ادئیگیاں اے جی پی آر کے زریعے کی جاتی ہیں اور یہ دیکھا گیا ہے کہ سرکاری سطح پر خریداریوں کے ریٹس مارکیٹ کے مقابلے مٰں بہت زیادہ ہوتے ہیں انہوںنے کہاکہ اگر حکومت ایک کھرب روپے کی خریداری کرتی ہے تو اس میں ٹیکسز کے علاوہ بھی 150سے لیکر 200ارب روپے تک زیادہ ادائیگیاں کی جاتی ہیں اور اگر اس میں صوبائی سطح پر قائم دفاتر کے ڈیٹا کو بھی شامل کیا جائے تو اندازً ایک سال کے دوران حکومت 300سے 350ارب روپے تک زائد رقم ادا کرتی ہے انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے ملک کے تمام محکموں میں کرپشن بہت زیادہ ہے اے جی پی آر حکومت کے تمام سرکاری اداروں میں ہونے والی خریداریوں سمیت ملازمین کی تنخواہوں ،پنشن اور دیگر مراعات ادا کرتی ہے اور اس محکمے کی جانب سے ادائیگیوں میں غیر ضروری تاخیر کے زریعے کرپشن کی راہیں کھولی جاتی ہیں انہوںنے کہاکہ اے جی پی آر کے موجودہ نظام کو بہتر بنانے کےلئے ہم نے سفارشات وزیر اعظم کو پیش کی ہیں جس پر عمل درآمد کرکے اس ادارے کو شفاف بنایا جائے گا انہوںنے کہاکہ اے جی پی آر کے تمام دفاتر میں 2004سے دنیا کا بہترین کمپیوٹر پروگرام ای آر پی موجود ہے تاہم اس کو استعمال میں نہیں لایا گیا ہے اس نظام کو فوری طو ر پر استعمال میں لایا جائے گااے جی پی آر میں حکومتی سطح پر ہونے والی تمام خریداریوں ،پنشن کی ادائیگیوں اور ملازمین کی تنخواہوں کے طریقہ کار کو بھی مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ کیا جائے گا اور اس میں غیر ضروری تاخیر کے خاتمے اور شفافیت لانے کےلئے چیک لسٹ کے مطابق ٹائم لائن مقرر کیا جائے گا اور تاخیر کے ذمہ دار افسران اور ملازمین کے خلاف کاروائی کی جائے گی انہوںنے کہاکہ اس وقت اے جی پی آر میں تمام تقرریاں اور تبادلے آڈیٹر جنرل کے احکامات پر ہوتے ہیں جوکہ اس کا آئینی حق رکھتے ہیں تاہم اب گریڈ 21اور گریڈ 22کے افسران کی تقرریاں اور تبادلوں کےلئے وزیر اعظم کی منظوری بھی ضروری ہوگی تمام ادائیگیوں کے لئے ٹائم فریم مقرر ہوگا اور محض ایک بار اعتراض کرنے کی گنجائش ہوگی ایسا سسٹم لائیں گے جو نامکمل کاغذات کسی صورت قبول نہیں کرے گی انہوںنے کہاکہ اے جی پی آر میں موجود بعض کرپٹ افسران کے اثاثوں کی نشاندھی کےلئے ایف آئی اے سے بھی رابطہ کیا گیا ہے تاکہ ان کی نشاندھی کرکے ان کو کٹہرے میں لایا جاسکے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!