ایران کے خلاف پابندیوں کو فعال بنانے کےلئے کام جاری رکھیں گے، ٹرمپ

ایران کے خلاف پابندیوں کو فعال بنانے کےلئے کام جاری رکھیں گے، ٹرمپ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے حوالے سے روسی صدر ولادی میر پوتین کے تجویز کردہ سربراہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مےڈےا سے گفتگو کرتے ہوئے امرےکی صدر نے کہا کہ میں شاید روسی صدر کے تجویز کردہ سربراہ اجلاس میں شرکت نہ کروں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم انتخابات کے بعد تک انتظار کریں گے۔ٹرمپ نے نیو جرسی کے بیڈ منسٹر میں واقع اپنے گولف ریزارٹ میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایران کے خلاف پابندیوں کو فعال بنانے کا عمل جاری رکھا جائے گا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ایران پر عائد اسلحہ کی پابندی میں توسیع سے انکار پر ردعمل میں ٹرمپ اس بات پر زور دیا کہ امریکا متنازعہ اسنیپ بیک طریقہ کار کا سہارا لے گا جو اس بنیاد پر ایران پر اقوام متحدہ کی تمام پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنے کی اجازت دے گا کیونکہ اس نے جوہری معاہدے میں طے شدہ ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ ہم اسنیپ بیک کا سہارا لیں گے۔ ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے کا کوئی بھی ریاستی فریق ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کا سہارا لے سکتا ہے۔ٹرمپ نے اشارہ کیا کہ وہ ایران پر عائد پابندیوں کو دوبارہ فعال کرنے کے اقدامات کا سہارا لیں گے اور جاری پابندیوں کا عمل جاری رکھیں گے۔ ہم سلامتی کونسل میں مسترد ہونے والی قرارداد کے بعد اپنا لائحہ مرتب کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!