کوئٹہ:بلوچستان کے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں او پی ڈیز کھولنے سے متعلق فیصلہ جاتی امور کا جائزہ لینے کے لیے سیکرٹری صحت بلوچستان دوستین خان جمالدینی کی زیر صدارت طبی ماہرین اور محکمہ صحت کے انتظامی افسران کا اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ بلوچستان ڈاکٹر سلیم ابڑو ایم ایس سول اسپتال کوئٹہ ڈاکٹر فضل الرحمن بگٹی سمیت دیگر ماہرین طبی پروفیسرز و ڈاکٹر صاحبان نے شرکت کی اجلاس میں کورونا وائرس کی مجموعی صورتحال، طبی سہولیات اور وباءکے پھیلاو کی ممکنا غیر معمولی صورتحال کے تناظر میں دستیاب طبی وسائل اور ڈھانچے کا جائزہ لیا گیا طبی ماہرین کی جانب سے اجلاس کو بتایا گیا کہ لاک ڈاون میں نرمی کے باعث کورونا وائرس کے پھیلاو کا تناسب سنگین حد تک چلا گیا ہے- ایسی تشویشناک صورتحال میں سابق معمول کے مطابق او پی ڈیز کا اجراءدستیاب طبی ڈھانچے ڈاکٹرز اور طبی اسٹاف کو شدید متاثر کرسکتا ہے جس سے علاج معالجے پر متعین افرادی قوت ختم ہو جائے گی جبکہ الیکٹیو سرجری یا دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کو وارڈز میں رکھنے کی صورت میں کورونا ایمرجنسی کے لیے خالی کئے گئے بیڈز کی دستیابی ممکن نہیں رہے گی ایسی صورتحال یقینا پریشانی کا باعث بنے گی اجلاس میں ڈاکٹرز اور طبی ماہرین نے عوامی مشکلات کے مدنظر اسپتالوں کے شعبہ حادثات میں جاری ایمرجنسی سروسز میں ہی محدود سطح پر ”سمارٹ او پی ڈیز ” شروع کرنے کی تجویز دی اور اس ضمن میں اتفاق کیا گیا کہ شعبہ حادثات میں موجود ڈیوٹی افسران کے ہمراہ ہر ڈیپارٹمنٹ کے پوسٹ گریجویٹ اسٹوڈنٹس اور آن کال پروفیسر تعینات کئے جائیں گے جو فرسٹ ایڈ اور علاماتی طبی تشخیص پر ٹریٹمنٹ تجویز کریں گے جون کے ابتدائی دو تین ہفتوں میں کورونا وائرس کے پھیلا¶ اور گراف فیلٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے او پی ڈیز کو مکمل یا جزوی طور پر کھولنے سے متعلق پھر جائزہ لیا جائے گا






