چمن ‘ پاک افغان بارڈر ڈھائی ماہ سے بند ‘ ایک لاکھ سے زائد افراد بے روزگار

چمن ‘ پاک افغان بارڈر ڈھائی ماہ سے بند ‘ ایک لاکھ سے زائد افراد بے روزگار

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

چمن:چمن پاک افغان بارڈر کوروناوائرس کے باعث ڈھائی ماہ سے زائد عرصہ سے بندش کا شکار ہے پاک افغان بارڈر کی بند ش سے سرحدی شہر چمن کے ایک لاکھ سے زائد افراد بے روزگار ہوگئے جن کا روزگار پاک افغان بارڈر سے منسلک تھا وہی افراد آج نان شبینہ کے محتاج ہوگئے ہےں چمن کے لاکھوں افراد اس سے قبل پاک افغان بارڈر کے راستے سے افغانستان کے علاقے ویش منڈی کاروبار کیلئے جاتے تھے جبکہ بارڈر کی بندش سے چمن کے اکثر افراد بے روزگار ہوگئے ہیں آئی جی ایف سی اور کمانڈرسدرن کمانڈ کی جانب سے چمن کے عوام کیلئے روایتی تجارت کے سلسلے میں روزانہ کی بنیاد پر دوسے تین گھنٹوں کیلئے مخصوص تجارتی وقت فراہم کیا گیا جسے لغڑی پیکج کا نام دیا گیااس پیکج کو چانس کا نام بھی دیا گیااس دو سی تین گھنٹوں کے دوران چمن کے دس سے بیس ہزار افراد جن میں جوان ،بچے ،بوڑھے حتیٰ کہ خواتین بھی اس سرحدی روایتی تجارت سے منسلک تھیں کوروناوائرس کے خطرے کے باعث جب سے پاک افغان بارڈرکو روایتی تجارت اور پیدل آمد رفت کیلئے بند کیا گیا ہے تب سے ایسے ہزاروں خاندان نان شبینہ کے محتاج ہوگئے ہیں پاک افغان بارڈر پر لغڑی پیکج کا کاروبار بند ہونے سے چمن میں جرائم،چوری ڈکیتی اور راہزنی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتاجارہا ہے شہر میں حالات پر قابوپانے کیلئے انتظامیہ بھی بے بس ہوگئی ہے پاک افغان بارڈر کی بندش سے متاثر ہونے والے بےروزگار افراد نے چیف آف آرمی سٹاپ جنرل قمر جاوید باجوہ ،کمانڈرسدرن کمانڈ اور آئی جی ایف سی بلوچستان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان بارڈر پر لغڑی پیکج کو فوری طوربحال کیا جائے انہوں نے کہا کہ پاک افغان بارڈر پر روایتی تجارت کے ساتھ ساتھ پاک افغان بارڈر کو پیدل آمد رفت کیلئے بحال کیا جائے لاکھوں افراد بارڈر کی بندش سے بے روزگار ہوگئے ہیں انہوں نے کہا کہ پاک افغان بارڈر پر کوروناوائرس سے بچاو¿ کیلئے حفاظتی اقدامات اور سہولیات فراہم کیا جائے تاکہ آنے جانے والے افراد مستفید ہوسکیں انہوں نے کہا کہ جن افراد کا کاروبار پاک افغان بارڈر سے وابستہ ہے ان کا کورونا ٹیسٹ کیا جائے اور جولوگ کورونامرض میں مبتلا نہ ہوں تو ان افراد کو پاک افغان بارڈر پر تجارت کی اجازت دی جائے تاکہ غریب افراد نان شبینہ کے لئے محتاج نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!