نیپال کی پارلیمنٹ نے بھارت سے تنازع کے باوجود نئے نقشے کی منظوری دے دی

نیپال کی پارلیمنٹ نے بھارت سے تنازع کے باوجود نئے نقشے کی منظوری دے دی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

نیپال کی پارلیمنٹ نے ملک کے نئے نقشے کی منظوری دے دی جس میں بھارت کے ساتھ متنازع کہلانے والے علاقوں بھی شامل ہیں۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نیپال کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا کہنا تھا کہ ایوان زیریں میں متنازع علاقوں کو بھی شامل کرکے نئے نقشے کی منظوری دے دی ہے۔نیپالی پارلیمنٹ کے اس اقدام کے بعد ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ سرحد پر دہائیوں پرانے تنازع میں شدت آنے کا خطرہ ہے اور نیپال کی سخت پالیسی کا اشارہ ہے۔دوسری جانب بھارت نے نیپال کے نئے نقشے کو مسترد کرتے ہوئے اس کو یک طرفہ قدم قرار دیا اورکہا کہ اس کی بنیاد تاریخی حقائق یا ثبوت پر نہیں ہے۔نیپال نے بھارت کی جانب سے شمالی ریاست اترکھنڈ کو تبت کی سرحد پر لیپالیکھ سے منسلک کرنے والے 80 کلومیٹر روڈ کے افتتاح کے بعد گزشتہ ماہ تجدید شدہ نقشہ جاری کیا تھا۔نیپال کا دعویٰ ہے کہ روڑ جس علاقے سے گزر رہا ہے وہ بھارت کا حصہ نہیں بلکہ نیپال کا حصہ ہے۔نقشے میں نیپال کے شمال مغربی علاقے کی پٹی کو نیپالی خطہ دکھایا گیا ہے۔نیپال کی پارلیمنٹ کے اسپیکر آگنی پراساد سیپکوٹا کا کہنا تھا کہ نئے نقشے کی منظوری 275 اراکین میں سے 258 نے دی جو دو تہائی سے زیادہ تعداد ہے۔ایوان زیریں سے منظور ہونے والے نقشے کو آئین کا حصہ بننے کے لیے قومی اسمبلی سے بھی منظوری لی جائے گی جس کے بعد صدر بدھیا دیوی بھنداری توثیق درکار ہوگی۔حکمران جماعت نیپال کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم پراچندا کا کہنا تھا کہ نیپال معاملے کو پیچیدہ نہیں کرنا چاہتا ہے اور ایک پرامن حل کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم مسئلے کو بھارت کے ساتھ سیاسی اور سفارتی سطح پر پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!