کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر ) اسمبلی اجلاس میں میر زابد علی ریکی نے کہا کہ دو سال قبل صوبائی حکومت کی نااہلی سے صوبائی پی ایس ڈی پی پر عمل نہیں ہوسکا تھا گزشتہ مالی سال کا بجٹ جب پیش ہوا تھا تو تب بھی اپوزیشن نے احتجاج کیا تھا موجودہ بجٹ میں بھی میرے حلقے واشک کو نظر انداز کیا گیا ہے اپوزیشن ارکان کے حلقوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جبکہ دوسری جانب کیچ کو آٹھ ڑوب کوچھ خضدار اور کچھی کو چار ، چار ارب روپے سے زائد دئیے گئے ہیں میرے حلقے میں تعلیم اور صحت کے حوالے سے کوئی فنڈز نہیں دئیے گئے یہ کہاں کا انصاف ہے ہم اپنے لئے نہیں بلکہ اپنے حلقے کے لئے فنڈز کی بات کرتے ہیں ایجوکیشن سٹی پروگرام میں 27ضلع شامل ہیں مگر واشک کو یہاں بھی نظر انداز کیا گیا ہے اپنے حلقے اور وہاں کی عوام کو مسلسل نظر انداز کرنے پر خاموش نہیں رہیں گے اور جلد صوبائی پی ایس ڈی پی کے حوالے سے ہائی کورٹ جائیں گے اس موقع پر انہوں نے واشک کو نظر انداز کرنے پر ایوان سے احتجاجاً واک آﺅٹ کیا






