کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر ) بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے عوام کی توقعات اور انصاف کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا بجٹ ہے جس کی تیاری میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے چار کھرب65ارب روپے سے زائد حجم کے حامل اس بجٹ میں امن وامان کے لئے 44ارب ، کورونا سے نمٹنے کے لئے ساڑھے 4ارب روپے رکھے گئے ہیں حکومتی رکن نے ماضی کی حکومت کا حوالہ دیا ہم ان سے اتفاق کرتے ہیں کہ سابق حکومت نے اپوزیشن کے حلقوں کو نظر انداز کیا ہوگا لیکن وہ حکومت اس سے انکار بھی نہیں کررہی تھی اس حکومت کے قول اور فعل میں تضاد نہیں تھا اس موجودہ حکومت کے قول اور فعل میں بہت تضاد ہے کئی مہینے قبل ہم سے تجاویز مانگی گئیں میں نے جو مرتبہ ایک لیٹر پر سکیمات تجویز کرکے اسے جمع کرایا اور ریسیونگ بھی لے لی لیکن ایک بھی سکیم بجٹ کا حصہ نہیں بنی یہ حکومت کرپشن ، اقربائ پروری اور میرٹ کی پامالی کو لے کر آگے بڑھ رہی ہے ہم اپنے حلقوں کے عوام کے سامنے یہ ساری صورتحال رکھ رہے ہیں ہم اس بجٹ پر احتجاج کرتے رہیںگے اور ہر حد تک جائیں گے انہوںنے کہا کہ سریاب کی جو سکیمات پی ایس ڈی پی کا حصہ ہیں بتایا جائے کہ وہ کس کی تجویز کردہ ہیں یہ ان لوگوں کی سکیمات ہیں جو انتخابات میں ہارے ہوئے اور غیر منتخب افراد ہیں انہوںنے ایوان میں تصاویر لہراتے ہوئے کہا کہ میرے پاس یہ تصاویر موجود ہیں کہ کس طرح ہمارے حلقوں میں غیر منتخب افراد ترقیاتی سکیمات کا افتتاح کررہے ہیں انہوںنے کہا کہ ہم حکومت کے خلاف یوم بد دعا منائیں گے سریاب میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے کھیلوں کے گراﺅنڈز نہیں ہیں اور حالات یہ ہوچکے ہیں کہ گزشتہ دنوں دکان توڑ کر چور آٹا چوری کرکے لے گئے یہ حکومت کی نااہلی ہے انہوںنے کہا کہ میرے حلقے میں ہنہ اوڑک ، زڑخو اور ڈیگاری کے لئے ایک بھی سکیم اس بجٹ میں شامل نہیں ہے سریاب کی سکیمات کاغیر منتخب لوگوں کے ذریعے افتتاح کیا جارہا ہے عدالت عالیہ ا س کا نوٹس لے وفاق میں ایک واک آﺅٹ کی بات کو لے کر یہاں واہ واہ کی جارہی ہے یہ ان لوگوں کے بس کاکام نہیں کہ وہ وفاق میں جا کر بلوچستان کے لئے لڑیں بلوچستان کے لئے بات کرنے والی حکومتیں سردار عطاءاللہ مینگل اور سردار اختر مینگل کی حکومتیں تھیںآج اگر صوبے کو تھوڑے بہت فنڈز ملے ہیں تویہ انہی لوگوں کی بدولت ملے ہیں یہ ان کے مرہون منت نہیں جن کی کوئی زبان ہی نہیں جو آج ایک بات کرتے ہیں اور کل اس سے مکر جاتے ہیں صوبائی حکومت کی نااہلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ملک میں کورونا سے نمٹنے کے لئے اب تک کھربوں روپے خرچ ہوچکے ہیں اور یہ حکومت ایک پی سی آر مشین تک لے کر نہیں آئی شیخ زید ہسپتال میں وینٹی لیٹرز ہیں لیکن انہیں چلانے والا کوئی نہیں ہے حکومت نے 27ڈاکٹرز شیخ زید بھیجے لیکن ایک بھی ڈاکٹر نہیں گیا اس کا ذمہ دار کون ہے شیخ زید میں روزانہ دو ہزار لوگ آکر علاج معالجہ کرارہے تھے حکومت نے کوئٹہ اور مستونگ کے لوگوں سے وہ سہولت بھی چھین لی کوئٹہ شہر میں700ٹیوب ویل ہیں لیکن اکثر ٹیوب ویل فنکشنل نہیں ہیں بجٹ میں ان کے لئے رقم نہیں رکھی گئی کوئٹہ شہر کے 70فیصد عوام ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہیں انہو ںنے کہا کہ جس نے اپنے حلقے کے لئے دس ارب روپے رکھے اس کے حلقے کی حالت یہ ہے کہ وہاں ایک فائر برگیڈ سٹیشن تک نہیں انہوںنے کہا کہ سال بھر کرپشن اور کمیشن کا بازار رگرم رہے گا ہ اس بجٹ کے خلاف احتجاج کریں گے اور ہر حد تک جائیں گے۔






