کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر ) اپوزیشن لیڈر ملک سکندرایڈووکیٹ نے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بجٹ عوام دوست نہیں کسی صورت اس کا حصہ نہیں بنیںگے، بجٹ میں عوام کو سہولیات کی فراہمی کومدنظر رکھتے ہوئے منصوبے تشکیل دئےے جاتے ہیں مگر یہاں ایسا نہیں ہے جن علاقوں سے معدنیات نکل رہے ہیں ان علاقے کے لوگ ان معدنیات سے حاصل ہونے والی رائلٹی سے محروم ہیں ہونا تو چاہےے تھا کہ جن معدنیات سے نکل رہی ہے وہاں کے لوگ خوشحال ہوتے ،صوبے میں زراعت پر خاطر خواہ توجہ نہ ہونے سے زرعی شعبے سے وابستہ لوگ بدحالی کاشکار ہے لائیواسٹاک کے شعبے پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی ،انہوں نے کہاکہ باربار اپنے حلقے کیلئے تعلیم ،صحت اور پینے کے پانی کے منصوبوں کامطالبہ کیا تاہم قول اور اقرار کے باوجود پی ایس ڈی پی میں منصوبے شامل نہیں کئے گئے ہیں حکومت حزب اختلاف کو جس طرح کچل رہی ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی حکومت نے جموریت کی گاڑی سے اپوزیشن کا پہیہ اکھاڑ پھینکا ہے صوبے کا بجٹ پی اینڈ ڈی میں نہیں بلکہ وزیراعلیٰ انیکس سے بنایاگیاہے بجٹ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے ہارے ہوئے امیدواروں کو حزب اختلاف سے زیادہ مراعات دی گئی اپوزیشن کے حلقوں میں ہارے ہوئے لوگوں کو فنڈز دینا باعث شرم اور جمہوریت کا قتل ہے ایسا ظلم کہیں نہیں دیکھا جو اس جمہوریت میں ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن نے کورونا کے تدارک کیلئے ہونے والے اقدامات میں حکومت کو ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی تاہم اس سلسلے میں وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس کے بعد دوبارہ ہم سے رابطہ نہیں کیاگیا انہوں نے کہاکہ نواں کلی سپورٹس کمپلیکس کی منظوری کے باوجود اسے علمدار روڈ میں تعمیر کیا گیا حلقے میں گرلز اینڈ بوائز کالجز کی تعمیر کی تجاویز کو پی ایس ڈی پی میں شامل نہیں کیا گیا ،پانی کے فراہمی کے منصوبے بھی منظوری کے باوجود پی ایس ڈی پی کا حصہ نہیں بنائے گئے 30بیڈ ہسپتال اور بی ایچ یوز کی تعمیر کے تجاویز کو بھی پی ایس ڈی پی کا حصہ نہیں بنایاگیا مساجد میں سہولیات کے حوالے سے تجاویز کو بھی نظرانداز کیاگیاہے۔ انہوں نے کہاکہ سلیکٹڈ بجٹ کو مسترد کرتے ہیں اس عوام دشمن بجٹ کا حصہ نہیں بنیںگے۔






