کوئٹہ: عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی بیان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیں اچانک اور انتہائی زیادہ اضافے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آٹا اور چینی بحران میں ملوث مافیا کی طرح اب پٹرولیم مافیا کے سامنے بھی وفاقی حکومت نے اپنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں اور عوام کو حالات کے رحم و کروم پر چھوڑ دیا ہے عجیب سی بات ہے کہ باقی دنیا میں پٹرول کو خریدار نہیں مل رہے اور ہمارے ہاں عوام دشمن فیصلے مسلط کرتے ہوئے پٹرول کی قیمتیں آسمان پر پہنچادی گئی ہیں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی دفتر باچاخان مرکز سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے اچانک سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی سمری منظوری کرکے عوام دشمنی کی انتہاکردی ۔ یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل تاریخ کی کم ترین سطح پر ہیں اکثرممالک میں پٹرول ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہیں خریدار نہیں مل رہے اور ہمارے ہاں حالت اتنی گئی گزری ہے کہ یکم جون سے جب پٹرول کی قیمتوں میں چند روپیہ کی کمی کی گئی تو اس کے بعد اگلے تین ہفتوں تک پٹرول دستیاب ہی نہیں تھا حکومت نے اعلان کیا تھا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لئے پٹرول کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی لیکن جمعے کے روز اچانک سے قیمتوں میں ایک ساتھ فی لٹر پچیس روپے کا اضافہ کیا گیا پٹرول ایک ایسی چیز ہے جس کی قیمتوں کے اثرات روزہ مرہ استعمال کی ہر چیز پر مرتب ہوتے ہیں پہلے سے ملک میں مہنگائی اور گرانفروشی کا دور دورہ ہے عوام گرانفروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کے رحم و کرم پر ہیں کبھی آٹاغائب ہوجاتا ہے تو کبھی چینی نہیں ملتی حکومت نے چینی اور آٹا بحران میں ملوث مافیا کی طرح اب پٹرولیم مافیا کے سامنے بھی گھٹنے ٹیک دیے ہیںاور عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاگیا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ بیان میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طو رپر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے پر نظرثانی کرے اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اقدامات اٹھائے ورنہ یہی حالات چلتے رہے تو عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے گا اور وہ سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے۔






