اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد سے متعلق کیس میں سیکریٹری داخلہ اور انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس اور سپرنٹنڈنٹ پولیس (انویسٹیگیشن) پر 20، 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ان افسران کے خلاف انظباطی کارروائی کرنے کی بھی ہدایات دیں کیوں کہ یہ افسران لاپتہ شہری سلیمان فاروق کو بازیاب کروانے میں ناکام رہے۔ اسلام آباد پولیس کے ایک عہدیدار نے عدالت کو بتایا کہ سلیمان فاروق کی گمشدگی کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے۔ پروفیسر محمد شریف کی دائر کردہ پٹیشن کے مطابق ان کا 27 سالہ بیٹا سلیمان فاروق الیکٹریکل انجینئر ہے جو 4 اکتوبر کو بحریہ ٹاؤن فیز 3 سے لاپتہ ہوگیا تھا۔ پٹیشنر کا کہنا تھا کہ انہوں نے لوہی بھیر پولیس اسٹیشن پہنچ کر گمشدگی کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کروائی۔ پٹیشن کے مطابق سلیمان کو بظاہر ایک طاقتور ادارے نے اٹھالیا ہے اور ان کے والد نے ان کی تلاش میں دربدر پھرتے رہے۔ درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ گمشدگی کی شکایت کمیشن برائے لاپتہ افراد میں بھی کی گئی لیکن بے سود رہی۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ سیکیورٹی ایجنسی اور وفاقی حکومت کے متعلقہ اداروں کو ان کے لاپتہ بیٹے کا اتا پتا معلوم کرنے کی ہدایت کریں اور اگر اس نے کوئی جرم کیا ہے تو اس پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ اسی سے متعلقہ کیس میں عمران خان نامی ایک لاپتہ شخص کی والدہ نے بھی اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست سے رجوع کیا تھا ان کا بیٹا کمپیوٹر انجینئر ہے اور متحدہ عرب امارات میں ملازمت کرتا تھا۔ درخواست میں خاتون نے کہا کہ ان کے بیٹے کو اسلام آباد کے علاقے جی-10 میں قائم ان کے گھر سے اٹھایا اور ڈبل کیبن گاڑی میں لے جایا گیا۔ درخواست کے مطابق عمران خان 4 سال قبل لاپتہ ہوئے تھے اور اہلِ خانہ نے مقامی پولیس کے پاس مقدمہ بھی درج کروایا تھا لیکن پولیس انہیں بازیاب کروانے میں ناکام رہی۔ درخواست گزار نے یہ معاملہ لاپتہ افراد کے کمیشن کے سامنے بھی ہپیش کیا اور سماعت کے دوران کمیشن نے کہا تھا کہ یہ معاملہ جبری گمشدگی کا ہے ساتھ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کی معلومات حاصل کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔ عمران خان شادی شدہ تھے اور ان کا ایک 6 سالہ بیٹا بھی ہے تاہم ان کے اہلیہ نے اپنے شوہر کی طویل گمشدگی کے باعث خلع کا کیسز دائر کردیا تھا اور اسلام آباد کے فیملی جج نے شادی تحلیل کر کے بیٹے کو ماں کی تحویل میں دے دیا تھا۔ پٹیشن میں کہا گیا کہ عمران خان ایک تعلیم یافتہ پروفیشنل شخص تھے اور ان کے خلاف کسی بھی پولیس اسٹیشن میں کوئی مقدمہ درج نہیں تھا اگر ان کے خلاف کچھ موجود تھا تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جانا چاہیئے تھا۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ ان کی گرفتاری آئین کی ان دفعات کی خلاف ورزی ہے جو شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت ہیں۔عمران خان کی والدہ نسیم بیگم نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حکومت سے عمران خان کی گمشدگی پر رپورٹ طلب کرلی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے عدالت سے لاپتہ شخص کا سراغ لگانے کے لیے مہلت کی درخواست کی، بعدازاں عدالت نے سماعت 11 اگست تک ملتوی کردی






