مویشی منڈی میں نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ

مویشی منڈی میں نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)انجمن تاجران بلوچستان اور منڈی مویشیاں کے رہنماﺅں نے مشرقی بائی پاس مویشی منڈی میں نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مویشی منڈی کو کھولنے کے احکامات جاری کرے ،منڈی کھولنے کی اجازت نہ دی گئی تو مویشیوں کو لا کر گورنر ہاوس اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے سامنے دھرنا دیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم آغا ، جنرل سیکرٹری اللہ داد ترین ، چیئرمین منڈی مویشیاں حاجی منیر احمد لانگو ، شریک چیئرمین حاجی رحیم عرف کوکو ، مٹن اینڈ بیف ایسوسی ایشن کوئٹہ کے صدر سرمد صدیق ، حسام الدین ، سید حیدر آغا ، علاوالدین ، رحمت اللہ لہڑی و دیگر نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں مشرقی بائی پاس پر کوئٹہ کی سب سے بڑی مویشی منڈی میں پی ڈی ایم اے کی جانب سے احتیاطی تدابیر کے لئے لگائے جانے والے کیمپ کو پرامن احتجاج کی آڑ میں بعض افراد نے آگ لگادی جس کے بعد ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن نے منڈی سیل کرادی۔ انہوں نے کہا کہ پرامن ا حتجاجی ہر شہری کا حق ہے مگر نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا سنگین جرم ہے جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہوئے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ واقعے میں کون ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عید قریب آتے ہی اس طرح کا واقعہ رونما ہونا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ منڈی 40 سال سے قائم ہے وہاں سہولیات کا فقدان ہے جانوروں کے لئے سایہ ، پینے کا پانی جیسی سہولیات تک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ منڈی کے قریب کسی بینک کی شاخ تک نہیں جس کی وجہ سے بیوپاری مویشی بیچنے کے بعد اکثر جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں رقوم سے محروم ہوجاتے ہیں اس تمام تر صورتحال کے باوجود بیوپاریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کاروبار جاری رکھا ہوا تھا گزشتہ دنوں پیش آنے والے واقعہ کے بعد منڈی سیل کردی گئی ہے۔ شہر کی بڑی منڈی سیل کرنے کے بعد اکثر شاہراہوں اور گلیوں میں منڈیاں سج گئی ہیں جس سے ٹریفک کی روانی اور شہر کی صفائی کا نظام متاثر ہورہا ہے۔ انہوں کہا کہ اگر بلاتاخیر منڈی نہ کھولی گئی تو دو دن بعد سڑکوں پر آکر احتجاج کریں گے ساتھ ہی گورنر ہاوس اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے سامنے اپنے مویشیوں کے ساتھ دھرنا دیں گے اس دوران اگر ہمیں کسی بھی جگہ روکا گیا تو وہیں پر دھرنا دیں گے۔ منڈی کھلوانے کے لئے احتجاج کے تمام ذرائع بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مویشی منڈی میں بینک قائم ، پینے کے پانی ، بیت الخلا اور وضو خانے کا بندوبست کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ منڈیوں میں بیوپاریوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے 11رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو مستقبل میں منڈی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کردار ادا کرئے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!