چاغی، واشک سے قدرتی جنگلات سے بڑے پیمانے پر تر اور گیلی لکڑیوں کی کٹائی کا سلسلہ جاری

چاغی، واشک سے قدرتی جنگلات سے بڑے پیمانے پر تر اور گیلی لکڑیوں کی کٹائی کا سلسلہ جاری

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

دالبندین محمد بخش بلوچ سے : ضلع چاغی اور ضلع واشک کے سرحدی علاقے زئے کے قدرتی جنگلات سے بڑے پیمانے پر تر اور گیلی لکڑیوں کی کٹائی کا سلسلہ جاری ۔جنگلی حیات کو شدید خطرات لاحق ۔تفصیلات کے مطابق علاقہ زئے کے زمیندار و مالدار ملک محمد سلیم محمد حسنی نے بتایا کہ محکمہ جنگلات ضلع چاغی کے متعلقہ حکام کی غفلت اور لاپرواہی سے بڑے پیمانے پر جنگلات کی تر اور گیلی لکڑیوں کی کٹائی کا سلسلہ جاری ہے روزانہ کی بنیاد پر کئی کئی گاڑیاں تر اور گیلی لکڑیوں سے لوڈ کرکے دالبندین چاغی نوشکی خاران اور دیگر اضلاع میں لے جائی جارہی ہے جنگلات محکمہ والے ٹال والوں سے ٹیکس کے نام پر 200 سے 300 روپے رشوت لے کر اپنی جیبوں میں ڈال دیتے ہیں ھم خشک لکڑیوں کی کٹائی کے مخالف نہیں مگر تر اور گیلی لکڑیوں کی کٹائی سے جنگلات کا نام و نشان تک ختم ہوجائے گا دور دراز صحرائی ریگستانی علاقوں میں لوگوں کا گزر بسر مالداری و کاشت کاری پر منحصر ہے اگر جنگلات کی تر اور گیلی لکڑیوں کو بےدریغ کٹائی کو نہ روکا گیا تو ہمارے مال مویشی جن میں بھیڑ بکریاں اونٹ اور دیگر جانور شامل ہیں وہ مر جائیں گے اور جنگلات کی کٹائی سے ریگستانی مٹی ان کے گھروں اور رہائشی آبادیوں تک پہنچ کر انھیں ہجرت پر مجبور کردے گی ذراعت کا شعبہ بھی غیر فعال ھوگا اس لیے صوبائی وزیر جنگلات و جنگلی حیات ۔سیکرٹری جنگلات کمشنر رخشان ڈویژن وڈپٹی کمشنر چاغی سے مطالبہ ہے کہ وہ جنگلات کی تر اور گیلی لکڑیوں کی کٹائی کو روکنے غیر قانونی ٹیکس کی وصولی کا خاتمہ کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں تاکہ جنگلات محفوظ رہ سکیں اور دوردراز کے صحرائی ریگستانی علاقوں کے لوگوں کی مال مویشیاں اور جنگلی حیات بھی بچ سکیں بصورت دیگر جنگلات کی تر اور گیلی لکڑیوں کی کٹائی کے خلاف وہ علاقے کے زمینداروں اور مالداروں کے ساتھ مل کر بھر پور انداز میں احتجاج کریں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!