زچگی کیسز ‘ شیخ زید ہسپتال ‘ فاطمہ جناح ‘ شہید بے نظیر اور ممفتی محمود ہسپتال کی سروسز 24گھنٹے جاری رکھنے کا فیصلہ

زچگی کیسز ‘ شیخ زید ہسپتال ‘ فاطمہ جناح ‘ شہید بے نظیر اور ممفتی محمود ہسپتال کی سروسز 24گھنٹے جاری رکھنے کا فیصلہ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ:محکمہ صحت بلوچستان نے سول سنڈیمن اسپتال کوئٹہ میں زچگی سے متعلق کیسسز میں مریضوں کے غیر معمولی رش کے پیش نظر صوبائی دارلحکومت کوئٹہ کی چار بڑی اسپتالوں شیخ زید اسپتال،  فاطمہ جناح چیسٹ اسپتال،  شہید بینظیر اسپتال اور مفتی محمود اسپتال میں شعبہ گائنی کی سروسز 24 گھنٹے بلا تعطل  جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ سول سنڈیمن اسپتال کوئٹہ میں قائم بلڈ بینک کے اوقات کار بھی 24 گھنٹے کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا گیا ہے  امراض زچہ و بچہ سے متعلق سہولیات و مشکلات کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کی زیر صدارت شعبہ امراض زچہ و بچہ کے ماہرین و انتظامی سربراہان کا اجلاس سول سیکرٹریٹ ہیلتھ کمیٹی روم میں منعقد ہوا جس میں سیکرٹری صحت بلوچستان دوستین خان جمالدینی،  میڈیکل سپریٹنڈنٹ سول سنڈیمن اسپتال کوئٹہ ڈاکٹر جاوید اختر، ایم این سی ایچ کے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر اسماعیل میروانی، سول سنڈیمن اسپتال کوئٹہ کے شعبہ گائنی کی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ ، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ریحانہ کمال نے شرکت کی اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کو سول سنڈیمن اسپتال کوئٹہ سمیت دیگر اسپتالوں میں گائنی کی دستیاب سہولیات کی استعداد کار سے متعلق بریفنگ دی گئی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سول سنڈیمن اسپتال کوئٹہ کے شعبہ گائنی پر کیسسز کے  غیر معمولی دباو کو کم کرنے کے لیے دیگر اسپتالوں میں زچہ و بچہ کی جزوی و مخصوص اوقات کار پر مبنی سروسز کو 24 گھنٹے کردیا جائے گا جبکہ چلڈرن اسپتال میں قائم شعبہ زچہ و بچہ کو بھی مکمل طور پر فعال کردیا جائے گا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دوران زچگی شراح اموات کی ایک بڑی وجہ زچہ و بچہ کی غیر تسلی بخش و ناکافی سہولیات ہیں اس لئے ضروری ہے کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں عوام کو سرکاری سطح پر گائنی کی معیاری سروسز فراہم کی جائیں ، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ کوئٹہ شہر کے وسط میں گائنی انسٹی ٹیوٹ کے قیام پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے مجوزہ انسٹی ٹیوٹ صوبے کا سب سے بڑا مرکز زچہ و بچہ ہوگا جہاں گائنی سرجری سمیت جملہ طبی سہولیات ایک ہی چھت تلے عوام کو میسر ہونگی تاہم اس کے قیام تک موجود دستیاب  طبی ڈھانچے کو گائنی کے حوالے سے  اپ گریڈ کرکے عوام کو معیاری سہولتیں فراہم کرنا ہماری ترجیح ہے پارلیمانی سیکرٹری صحت نے ایم این سی ایچ پروگرام کے کوآرڈینیٹر کو ہدایت کی کہ وہ امراض زچہ و بچہ سے متعلق محکمہ صحت بلوچستان کے مقامی طبی یونٹس کی معاونت کے دائرہ کار کو مزید وسعت دیں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ طبی خدمات سرانجام دینے والے ٹیکنیکل اسٹاف کی پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافے کے لیے ان کے ریفریشر کورس منعقد کروائے جائیں گے تاکہ سرکاری اسپتالوں میں طبی سروسز کا معیار مزید بہتر بنایا جاسکے ، پارلیمانی سیکرٹری صحت نے کہا کہ زدہ و بچہ کی طبی سہولیات کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے تسلسل کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کئے جاتے رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!