خضدار (نامہ نگار) تحصیل وڈھ کے علاقہ وہیر سے تعلق رکھنے والے رئیسانی قبائل کے معتبرین میر سعد اللہ خان رئیسانی ،میر ہدایت اللہ رئیسانی ،میر محمد آصف رئیسانی ،میر ثناءاللہ رئیسانی و دیگر نے کہاکہ گزشتہ روز مخالف فریق نے وڈھ پریس کلب میں اپنی پریس کانفرنس میں داد کریم پر جو الزامات لگائے ہیں وہ جھوٹ اور حقیقت کے برعکس ہیں اصل صورتحال یہ ہے کہ متعلقہ ملزمان نے ایک ہفتہ قبل ہمارے شریف لوگوں پر آر سی ڈی قومی شاہراہ کے قریب حملہ آور ہو کر انہیں زخمی کرنے کے علاوہ ایک نوجوان نعمت اللہ ولد خان محمد کو مبینہ طور پر اغواءکر کے اپنے ساتھ لے گئے جو تاحال ان کے قبضے میں ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے خضدار پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ رئیسانی قبیلہ کا طائفہ دین محمد زئی کا میر داد کریم اور میر حمزہ خان جھالاوان میں آباد رئیسانیوں کی جدی پشتی سے سربراہی کر رہے ہیں ،گزشتہ روز صالح محمد نے اپنے پریس کانفرنس میں داد کریم کے متعلق جو اظہار کیا تھا وہ بلکل بے بنیاد اور حقیقت کے برخلاف ہے اس طرح کی غلط بیانی کرنا یقینا علاقے کے پر امن ماحول کو خراب کرنے کی کوششوں کے علاوہ کچھ نہیں انہوں نے کہا کہ ہم یہ بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ موضع پھچڑی سے کئی سالوں سے بجری کی ڈھلائی کی جاری ہے اور تمام موضع پیمائش شدہ ہے انہی عناصر کی جانب سے چند ماہ قبل بجری ڈھلائی بند کی گئی تھی مگر ڈپٹی کمشنر خضدار کی مداخلت پر بجری ڈھلائی بندش کا خاتمہ کیا گیا مگر یہ لوگ ڈرائیوروں کو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر بجری اٹھانے پر جبری پابندی برقرار رکھے ہوئے ہیںانہی لوگوں نے ایک شخص کے پانچ سو بکریاں چھین کر اپنے پاس رکھے ہیں جن پر مقامی عدالت سے مقدمہ چل رہا ہے ان پورے واقعات میں مبینہ طور پر ایک لیویز اہلکار بھی ملوث ہے انہوں نے کہا کہ ہم پر امن لوگ ہیں اور پر امن طریقے سے اپنے روزگار و دیگر امور نمٹا رہے ہیں ہمیں ان لینڈ مافیا کے کارندوں نے شدیدذہنی پریشانی سے دو چار کر دیا ہے ہم چیف سکرٹری بلوچستان ،کمشنر قلات ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر خضدار ،اور اسسٹنٹ کمشنر وڈھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہونے والے نا انصافی کا ازالہ کریں ہمارے مغوی کو اغواءکاروں کے چنگل سے بازیاب کروائیں اور مقدمہ میں نامزد ملزمان کو گرفتار کر کے پابند سلال کیا جائے ۔






