پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار بڑی حد تک سست ہوچکی ہے تاہم احتیاط نہ کرنے کی صورت میں اس میں دوبارہ تیزی آنے کا اندیشہ ہے۔ ملک اب تک 2 لاکھ 97 ہزار 14 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس میں سے 6 ہزار 328 مریض انتقال کر گئے جبکہ 2 لاکھ 81 ہزار 925 صحتیاب ہوگئے۔ آج 3 ستمبر کی دوپہر تک کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووِڈ 19 کے مزید 137 کیسز سامنے آئے اور 2 مریض انتقال کر گئے اس کے علاوہ بلوچستان کے گزشتہ روز کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں مزید 36 کیسز اور 2 اموات رپورٹ ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 466 مریض صحتیاب ہونے میں کامیاب رہے جس کے بعد ملک میں فعال کیسز کی تعداد8 ہزار 761 ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس کے ابتدائی 2 کیسز ایک ہی تاریخ یعنی 26 فروری کو سامنے آئے تھے جس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متعدد سرگرمیاں روک دی گئی تھی اور عوام کا ہجوم روکنے کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا تھا۔ تاہم معاشی چیلنجز کو دیکھتے ہوئے اپریل میں ہی حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنی شروع کردی تھی اور مئی میں کافی چیزیں کھول دی گئیں تھیں جس کی وجہ سے جون میں پاکستان وبا پر عروج پر جا پہنچی تھی۔ چنانچہ حکومت نے مجموعی لاک ڈاؤن کے بجائے اسمارٹ لاک ڈاؤن اور ٹی ٹی کیو (ٹریسنگ، ٹیسٹنگ اور قرنطینہ) کی پالیسی مؤثر انداز میں اپنائی جس کے واضح طور پر بہتر نتائج سامنے آئے اور اب ملک میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ بڑی حد تک سست ہوچکا ہے
