بی این پی کے رہنماوں کے گھروں پر حملہ و فائرنگ ناقابل برداشت عمل ہے ، میر خورشید جمالدینی

بی این پی کے رہنماوں کے گھروں پر حملہ و فائرنگ ناقابل برداشت عمل ہے ، میر خورشید جمالدینی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

نوشکی ۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن میر خورشید جمالدینی نے اپنے جاری بیان میں بی این پی خاران کے تحصیل صدر حاجی اصغر ملنگزئی کے گھر پر گزشتہ شب فائرنگ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہاہےکہ پارٹی رہنماء کے گھر پر رات کی تاریکی میں فائرنگ و حملہ کو پارٹی رہنماوں کے خلاف سازش اور خاران پولیس کی مکمل ناکامی قرار دیتے ہوئے کہاہےکہ اس سے قبل بھی خاران میں پارٹی رہنماء حاجی غلام حسین بلوچ کے گھر پر فائرنگ اور جانی نقصان بھی ہوا تھا مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس قاتلوں کا سراغ لگانے اور انکی گرفتاری میں مکمل ناکام ہوچکا ہے اب ایک مرتبہ پھر پارٹی کے تحصیل صدر خاران حاجی اصغر ملنگزئی کے گھر پر بزدلانہ حملہ اسی تسلسل کی کڑی ہے بی این پی کے رہنماوں کے گھروں پر حملہ و فائرنگ ناقابل برداشت عمل ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ پارٹی رہنماوں کے گھروں پر حملوں میں ملوث نامعلوم افراد کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور خاران پولیس پر بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے حملوں کو روکنے اور ملزمان کو گرفتار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔پارٹی کے دیرینہ کارکنوں کو ایسے بزدلانہ حملوں سے ہرگز مرعوب نہیں کیا جاسکتا ۔بی این پی کے کارکنوں پر مختلف ادوار میں حملے اور انہیں شہید کرنے سے بھی گریز نہیں کیاگیا ہے مگر پارٹی کارکنوں کی جدوجہد و قربانیوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور نہ ہی ایسے حملے ہماری جدوجہد کو کمزور کرسکیں گے ۔انہوں نے خاران پولیس ضلعی انتظامیہ اور خصوصا کمشنر رخشان ڈویژن سے مطالبہ کیاہے کہ وہ حاجی اصغر ملنگزئی کے گھر پر حملے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کریں بصورت دیگر بی این پی بلوچستان بھر میں سخت احتجاج پر مجبور ہوجائے گی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!