بلوچستان حکومت کے حصے کا طعنہ دینے والے آستین کے سانپ ہیں ‘ عوامی نیشنل پارٹی

بلوچستان حکومت کے حصے کا طعنہ دینے والے آستین کے سانپ ہیں ‘ عوامی نیشنل پارٹی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

پشین : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماﺅں نے پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اسدخان اچکزئی کی بحفاظت بازیابی کامطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ہمیں خدشہ ہے کہ کہیں وہ صوبے کے دوسرے اسد مینگل نہ بن گئے ہوں،اے این پی سلیکٹڈ وزیراعظم اور اس کے ٹولے کو گھر بھیجنے ، جمہوریت کی بقاء،آئین،قانون اور پارلیمنٹ کی بالادستی اورملک میں صاف اور شفاف انتخابات کیلئے پی ڈی ایم کاحصہ ہیں ،اداروں کے بیچ تناﺅ، پاکستان کے لئے ٹھیک نہیں ہے، ہم بلوچستان عوامی پارٹی کے اتحادی ہیں حکومت کے حصے کا طعنہ دینے والے آستین کے سانپ ہیں ہم ایک نظریہ رکھتے ہیں جس دن محسوس ہواکہ نظریہ کونقصان پہنچ رہاہے اسی دن حکومت کو لات مارکر نکل جائیںگے ،اے این پی اور اس کے کارکن عدم تشدد کی راہ پر چلنے والے لوگ جنگ ، تشدد کے خلاف کھڑے ہیں اور ہمیشہ کھڑے رہیں گے ،خان حاجی جیلانی خان اچکزئی نے فکر افغان باچاخان اور خان عبدالولی خان کے مشن آگے بڑھاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ ان خیالات کااظہار عوامی نیشنل پارٹی صوبہ خیبرپشتونخواکے صدر ایمل ولی خان ، پارٹی کے صوبائی صدر و صوبائی پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی رکن مرکزی کمیٹی صوبائی وزیرزراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی ،صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا،صوبائی سینئر نائب صدر نوابزادہ ارباب عمرفاروق کاسی ،مرکزی جوائنٹ سیکرٹری رشید خان ناصر،حاجی نظام کاکڑ،اصغر علی ترین، صوبای ناب صدر و رکن صوبای اسمبلی شاہینہ کاکڑ، صوبائی مشیر ملک نعیم خان بازئی ،سید عبدالباری آغا،عبداللہ خان کاکڑ ، اے این پی ضلع پشین کے صدر عبدالباری کاکڑ ،خان محمد کاکڑضلع پشین کے جنرل سیکرٹری محمد صادق کاکڑو دیگر مقررین نے شہید حاجی جیلانی خان اچکزئی کی دسویں برسی کی مناسبت سے تاج لالافٹبال گرانڈ پشین میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسہ عام میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے شہیدحاجی جیلانی خان اچکزئی کو بھرپور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ فخر افغان باچاخان کے حقیقی پیروکار اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کے سیاسی رفیق کی حیثیت حاجی جیلانی خان اچکزئی نے ہمیشہ پشتونوں کے اجتماعی قومی مسائل کے حل ، قوموں کے مابین برابری ، جمہوریت کی مضبوطی اور عوام کو ان کے حقوق دلانے کے لئے جدوجہد کی نئی نسل کو اپنے شہداءاور قائدین کی جدوجہد اور قربانیوں سے آگاہ کرنے کے لئے پارٹی ہر سطح پر اپنا فعال اور متحرک کردار ادا کرے گی۔ جلسہ عام سے خطاب کے موقع پر ایمل ولی خان نے شہیدجیلانی خان اچکزئی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ جلسہ عام شہیدخان حاجی جیلانی خان اچکزئی کی دسویں برسی کے موقع پر منعقد ہوا ہے ہم خان حاجی جیلانی خان اچکزئی سمیت تمام شہداءکو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ہم عدم تشدد کی راہ پر چلنے والے ہیں ہم جنگ ، تشدد کے خلاف کھڑے ہیں اور ہمیشہ کھڑے رہیں گے جو قربانی بھی دینی پڑی دیں گے لیکن عدم تشدد سے دستبردار نہیں ہوں گے عدم تشدد اور تشدد کے مقابلے میں جیت ہمیشہ عدم تشد د کی ہوتی ہے۔ہم جس طرح کل عدم تشدد کی بات کی تھی آج بھی عدم تشدد کی ہی بات کرتے ہیں ہم نے کل بھی کہاتھا آج بھی کہتے ہیں کہ افغانستان اور پاکستان کا امن اور ترقی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے ایک پرامن پاکستان پرامن افغانستان کے بغیر ناممکن ہے اور اسی طرح ایک پرامن افغانستان پرامن پاکستان کے بغیر ناممکن ہے دونوں ممالک کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہئے آج اگر گل بدین حکمتیار اور طالبان کا وفد آتا ہے تو آئے لیکن سب کان کھول کر سن لیں کہ جو بھی افغانستان کے امن عمل کو سبوتاژ کرے کی کوشش کرے گا عوامی نیشنل پارٹی اس کے خلاف کھڑی ہوگی پھر آپ بھلے ہمیں جہاد کا مخالف کہیں ، ہمیں قابل قتل قرار دیں یا پھر کافر کہیں ہم چپ نہیں رہیں گے مولانا سمع الحق کے صاحبزادے نے جو بیان دیا ہے انہیں اپنی زبان کو لگام دینی ہوگی۔ انہوںنے کہا کہ آج ملک میں جمہوریت کی بقاءاور عوام کے ووٹ کی عزت کی خاطر پی ڈی ایم کے نام سے ایک تحریک اٹھ کھڑی ہوئی ہے جس کا عوامی نیشنل پارٹی بھی حصہ ہے پی ڈی ایم میں جتنی جماعتیں ہیں سب نے اپنے اپنے نکات دیئے ہیں عوامی نیشنل پارٹی نے نہ صرف پشتونوں بلکہ بلوچ ، سندھی اور سرائیکی سمیت تمام چھوٹی قوام کی نمائندگی کرتے ہوئے دس نکتے دیئے ہیں جن میں اولین نکتہ اٹھارہویں ترمیم اور اس ترمیم کی حفاظت اور اس پر عملدرآمد کا ہے۔ اٹھارہوین ترمیم وہ آئینی ترمیم ہے جس کے تحت ہمیں اپنے وسائل پر اختیار ملاہم اپنا اختیار کسی کو نہیں دیں گے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ نئے این ایف ایوارڈ کا اجراءکیا جائے اور نیا ایوارڈ اٹھارہویں ترمیم کی روشنی میں ہو۔ ہم عوام کے ووٹ کی عزت اورجمہوریت کی بقاءکے لئے پی ڈی ایم کا حصہ بنے ہیں تاکہ پی ڈی ایم میں رہتے ہوئے موجودہ سلیکٹڈ حکومت کاخاتمہ کرکے اسے گھر بھیجا جاسکے اور ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کرائے جاسکیں۔ موجودہ سلیکٹڈ حکمرانوں کی حکمرانی کا ہر دن عوام کے لئے نقصان ہے عوامی نیشنل پارٹی پی ڈی ایم کے ساتھ اس نکتے پر کھڑی ہے کہ موجودہ سلیکٹد حکومت کو گھر بھیجنا ہے اور نئے انتخابات کرانے ہیں۔اداروں کے بیچ تناﺅ، پاکستان کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ اگر ہم سیاستدان یہ کہتے ہیں کہ جمہوریت میں کسی ادارے کا کوئی کام نہیں تو پھر جمہوری تحریک سے ہر ادارے کو باہر نکالنا ہوگا اگر کڑوے گھونٹ پینے پڑے تو پی لیںگے۔ عوام کا اختیار عوام کے پاس رہنے دیں۔ جمہوری پسند قوتوںکو بھی یہ گزارش ہے کہ اداروںکو سیاست میں نہ دھکیلیں ان کو سیاست سے باہر رکھیں۔ ہمارا ہدف موجودہ حکومت کا خاتمہ ہے انتخابات شفاف کرائے جائیں۔ایمل ولی خان نے کہا کہ یہاں بعض لوگ اکثر یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ عوامی نیشنل پارٹی صوبائی حکومت میں بھی ہے اور پی ڈی ایم کا بھی حصہ ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ جو لوگ عوامی نیشنل پارٹی کے حکومت میں رہنے سے خوش نہیں وہ آستین کے سانپ ہیںجنہیں دنیا نہ جانتی ہو مگر ہم اچھی طرح جانتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو پشتونوں کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں انہوںنے کہا کہ پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کی بڑی جماعت ہے لیکن وہ پی ڈی ایم کا بھی حصہ ہے آج ہمیں جو لوگ کہتے ہیں کہ آپ پی ڈی ایم میں بھی شامل ہیں بلوچستان حکومت کا بھی حصہ ہیں آپ حکومت سے الگ ہوجائیں اورجاہلانہ قدم اٹھائیں تو ہم ایسا نہیں کریں گے عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان عوامی پارٹی کے ساتھ بلوچستان حکومت میں اتحادی ہے سب سن لیں کوئی خوش ہوتا ہے یا ناراض ہوتا ہے اے این پی حکومت میں رہے گی۔اگرکسی کو بھی یہ شکوک و شبہات ہیں کہ خدانخواستہ عوامی نیشنل پارٹی کوئی جاہلانہ قدم اٹھارہی ہے ایسا نہیں ہے ہم حکومت میں ہیں اور جب انتخابات ہوں گے تو انشاءاللہ بلوچستان میں پھر ہم حکومت بنائیں گے۔ ہمارا ایک نظریہ ہے۔ ہم حکومت کے اتحادی بنے ہیں کسی کے لئے حکومت نہیں چھوڑیں گے۔ جب پتہ چلا کہ حکومت میں رہتے ہوئے نظریے کا نقصان ہورہا ہے تو ہم لات مارکے باہر نکلیں گے۔ اپنے خطاب میں اصغرخان اچکزئی کا کہنا تھا کہ آج ہم شہید لالاکی برسی ایک ایسے موقع پر منارہے ہیں جب لالا کا بھتیجا اسدخان اچکزئی جو ہماری پارٹی کا صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہے وہ ڈیڑھ مہینے سے زائد کے عرصے سے لاپتہ ہیں ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں کہ کہاں اور کس حالت میں ہے میں ایک خدشے کااظہار بار بار کرتا ہوں آج بھی کہہ رہا ہوں کہ کہیں خدانخواستہ اسدخان کو کچھ ہو نہ گیا ہو کیونکہ وہ ایک گردے کے ساتھ جی رہے ہیں یہ گردہ بھی انہیں ان کے بھائی کا عطیہ ہے گردوں کا ایک ایسا مریض جس کی زندگی کا دارومدار روزانہ کی ادویات پر ہو وہ اتنی ذہنی اذیت نہیں سہہ سکتا اسی لئے میں کہتا ہوں کہ کہیں اسدخان اچکزئی ہمارے صوبے کا دوسرا اسدمینگل تو نہیں بن رگیا۔ اسدمینگل کی فاتحہ ان کے والد سردار عطاءاللہ خان مینگل اور ان کے بھائی سردار اختر مینگل نے نہیں لی کیونکہ ان کا آج تک کوئی پتہ نہیں چلا ہمارا کام تو ایف آئی آر کا اندراج تھا اب آئین اور قانون کی رو سے ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسدخان اچکزئی کی بازیابی حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوںنے کہا کہ ہم اب ڈر اور خوف سے نکل چکے ہیں ہمیں ہمارے مقصد اور جدوجہد سے دستبردار کرانے کا کوئی کوئی حربہ اور کوئی ہتھکنڈہ اب ہم پر کام نہیں کرسکتا آج بدقسمتی سے ایک بار پھر پشتون علاقوں میںآ گ کے شعلوں کو ہوا دی جارہی ہے میں علمائے کرام کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آگے بڑھیں اور اس آگ کو بجھانے میں اپنا کردار ادا کریں ورنہ اس آگ میں سب کچھ جل جائے گا۔انہوںنے کامیاب جلسے کے انعقاد پر عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی عہدیاران ، بالخصوص ضلع پشین کی تنظیم اور صوبے بھر کی تنظیموں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ثابت کردیا ہے کہ ہم عوام کی اصل نمائندہ قوت ہم ہیںجلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی نے عبداللہ خان کاکڑ سمیت دیگر شخصیات کو کو پارٹی میں شمولیت پر خوش امدید کہتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہمیشہ پشتونوں کے روشن مستقبل کے لئے جدوجہد کی ہے ہم امن ، ترقی اور بھائی چارے کے بات کرنے والے لوگہ ہیںہمیں امن کی ضرورت ہے اور باچاخان باباکے فکر وفلسفے پر عمل پیرا ہونے سے ہی ممکن ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے مرکزی ،صوبائی و ضلعی رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ شہید خان حاجی جیلانی خان اچکزئی کی جدوجہد ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے اور ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے شہداءاور قائدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پشتونوں کے مسائل کے حل ، قوموں کی برابری ، جمہوریت اور جمہوری اداروں کے استحکام ، پارلیمنٹ کی بالادستی ، میڈیا اور عدلیہ کی آزادی اورخودمختاری کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ جلسہ عام کے سلسلے میں پشین شہراور گردونواح کو پارٹی کے سرخ جھنڈوں اور خیر مقدمی بینرز سے آراستہ کیا گیا تھا جگہ جگہ مرکزی وصوبائی قائدین کا پرتپاک استقبال کیا جاتا رہاایمل ولی خان جب جلسہ گاہ پہنچے تو ان کا انتہائی شاندار استقبال کیاگیا اور شرکاءنے کھڑے ہو کرانہیں خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر سیکورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔قبل ازیں ایمل ولی خان ، اصغر خان اچکزئی انجنئیر زمرک خان اچکزئی اور دیگر مرکزی و صوبائی قائدین نے پشین شہر میں باچاخان مرکز کا افتتاح کیا اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ باچاخان مرکز ہمہ وقت امن کے قیام بھائی بندی کے فروغ کی علامت ہےاور یہ تمام پشتونوں کا مشترکہ گھر ہے جس کے دروازے نہ صرف پشتون بلکہ تمام اقوام اور تمام طبقات کے لئے ہر وقت کھلے رہیںگے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!