کوئٹہ : بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کوئٹہ زون کے ترجمان نے جاری کردہ بیان میں جامعہ بلوچستان میں امتحانات میں اصلاحات کے نام پر صرف شعبدہ بازی کی گئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ شعبہ امتحانات میں روز اول سے چند مخصوص لوگوں کا گروہ پیپر مارکنگ و امتحانی سینٹرز کو ٹیھکے میں لے چکی ہے یہ گروہ جو کبھی کلاسز نہیں لیتی سال میں جامعہ بلوچستان و بلوچستان بورڈ میں جتنے بھی امتحانات ہوتے ہے صرف ان ہی لوگوں کے ڈیوٹیاں لگائی جاتی ہے جبکہ ایسے بھی لوگ ہے جو بلوچستان بورڈ سے بلیک لسٹ ہوچکے ہے ان کو بی اے ۔ بی ایس سی ۔ ایم اے ایم ایس سی بی ایڈ بلوچستان یونیورسٹی کے تمام امتحانات میں ڈیوٹیاں لگائی جاتی یے دس سال سے ان ہی لوگوں کے ڈیوٹیاں سالانہ اور سپلمنٹری امتحانات میں لگایا جارہا ہے جوکہ صرف مرعات و ٹھیکے داری کو برقرار رکھنے کے لئے یے کیا بلوچستان میں دوسرے اساتذہ کرام کو حق نہیں کہ وہ امتحانات میں ڈیوٹی دے اور پیپر مارکنگ کرے صرف چند ہی مفادپرست ہر دفعہ کرپشن ع بلیک میلنگ کے زریعے امتحانی سینٹرز پر قابض ہوکر پوزیشنز اپنے رشتہ داروں کو دلواتے یے اور سرعام نقل کروانے میں ملوث ہے بی ایس او ان عناصر کے خلاف بھرپور اسٹینڈ لے گی جامعہ بلوچستان شعبہ امتحانات میں کرپٹ عناصر کے مسلسل ڈیوٹیوں کو لگانے کے خلاف بلوچستان ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کرے گی کہ کس قانون کے تحت جامعہ بلوچستان شعبہ امتحانات ہر امتحان میں صرف ان ہی چند لوگوں کے ڈیوٹیاں لگا کر سینٹرز پر ٹھیکے داری کررہی یے جبکہ اس سارے عمل میں ڈائریکٹر کالجز بھی برابر کے شریک یے جوکہ بلیک میلنگ کے زریعے ان عناصر کو ہر امتحان میں شامل کروانے کے لئے این او سی جاری کروارہی یے جوکہ کالجز کے ساتھ ساتھ مذاق ہے بی ایس او اس حوالے سے احتجاجی لائحہ عمل ترتیب دے رہے ہے تمام ایم پی ایز کے ساتھ ملاقات کرینگے تاکہ جامعہ بلوچستان شعبہ امتحانات کو ان کرپٹ عناصر کے تسلط سے چھٹکارہ دلایا جاسکے
