پشاور: بلوچ ورہنماسردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ جب تک اس ملک میں حقیقی جمہوریت نہیں آتی اس وقت تک جدوجہد جاری رہے گی، ہمارے اوپر کٹھ پتلی حکمران لائے گئے ہیں، راتوں رات سیاسی پارٹی بنائی گئیں ۔اتوار کو یہاں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اختر مینگل نے کہاکہ کاش مجھے پشتو آتی اور پشتو میں دمادم مست قلندر کچھ اور ہی ہوتا ۔انہوںنے کہاکہ پشتوں کے ساتھ ہمارا بہت پرانا رشتہ ہے ،چالیس سالوں سے اس دھرتی پر جن پشتونوں کا خو ن بہایا گیا ہے ان قصور کیا تھا ؟-۔ انہوںنے کہاکہ ہم بلوچستان کے لوگ ستر سالوں سے کرب میں مبتلا ہیں ، بلوچستان میں گاﺅں کے گاﺅں اجاڑ دیئے گئے ہیں ،ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں کو غائب کر دیا گیا ہے ،آج بھی ہماری مائیں اور بہنیں سڑکوں پر اپنے بچوں کی بھیک مانگ رہی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ بلوچستان کے لوگ سڑک ، روز گار ، سکول اور کالج کا مطالبہ نہیں کر تے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے یہ ملک نہیں توڑا- ، ملک 1970ءمیں ٹوٹا ہے تو ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہیں ، آج ہم ملک کو توڑنے والی قوت کے کھڑے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ دہشتگردی کا بازار گرم ہے اس کے ذمہ دار یہاں کے لوگ نہیں ہیں ، دہشتگرد وہ لوگ ہیں جنہوںنے دہشتگردوں کو پناہ دی ، جنہوںنے فنڈنگ کی ، دہشتگرد وہ ہیں جنہوںنے بلوچوں کی سر زمین پر بلوچوں کا خون بہایا ۔ انہوںنے کہاکہ جب تک اس ملک میں حقیقی جمہوریت نہیں آتی اس وقت تک جدوجہد جاری رہے گی ۔انہوںنے کہاکہ یہ ملک دو لخت ہوا ،سیاسی جماعتی نے ملک نہیں توڑا ، کسی سیاسی جماعت نے بنگلالیوں کا قتل نہیں کیا ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے اوپر کٹھ پتلی حکمران لائے گئے ہیں ، ہم نے تمام تر زندگی سیاسی پارٹی بنانے میں لگائی ہے لیکن یہاں اسٹیبلشمنٹ راتوں رات پارٹی بناتی ہے ، ملک بھر میں مختلف ناموں سے پارٹی بنائی گئی ہیں ، انہوںنے کہاکہ انشاءاللہ تعالیٰ اس جمہوریت پر یقین رکھیں گے جس میں میرے بلوچ اور پشتون کی عزت محفوظ ہو ۔پروفیسر ساجد میر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مسلط کیا گیا -وزیر اعظم بار بار چیزوں کو دہراتا رہتاہے اور کہتا ہے کہ پی ڈی ایم والے این آر او مانگ رہے ہیں جو میں نہیں دونگا ،کچھ دینا ان کے اختیار نہیں ہے ،جن کے اختیار میں ہے ان کے خلاف ہماری جدوجہد ہے ۔انہوںنے کہاکہ مسلط کر دہ وزیر اعظم اتنا صاف ہوتا تو جہانگیر ترین ، خسرو بختیار اور ندیم بابر جیسے لوگ ان کی گود میں نہ بیٹھے ہوئے ۔ انہوںنے کہاکہ ایف آئی اے کے سابق افسر سجاد باجوہ نے جن چار سو ارب روپے کا الزام لگایا ہے ان میں عمران خان بھی شامل ہے ۔






