اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج کرنے والے تمام نجی اور سرکاری ہسپتالوں سے کہا ہے کہ کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر آئیسولیشن وارڈز کی تعداد میں اضافے کے علاوہ مزید بستروں اور وینٹیلیٹرز کا انتطام کریں۔ نجی ہسپتالوں کے کچھ نمائندوں نے اس مسئلے پر بات چیت اور ضروری انتظامات کرنے کے لیے دارالحکومت کی انتظامیہ کے عہدیداروں سے ملاقات کی، ان سہولیات کا انتظام ان ہسپتالوں میں بھی کیا جائے گا جو کووڈ19 کے مریضوں کا علاج نہیں کررہے۔ اس وقت 12 سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں آئیسولیشن وارڈ، 362 بستر اور 69 وینٹیلیٹرز کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے مختص ہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں وینٹیلیٹرز اور ہسپتالوں کے بستروں کا استعمال ملک میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ یعنی 68 اور 69 فیصد ہے۔ دارلحکومت انتظامیہ کے ترجمان نعمان ناظم نے ڈان کو بتایا کہ 5 نجی ہسپتالوں کے نمائندوں نے چیف کمشنر کے دفتر میں ڈائریکٹر آصف رحیم سے ملاقات کی اور 45 سے 48 بستروں کا بندوبست کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ انہوں نے بتایا کہ پمز ہسپتال کو بھی بستروں کی گنجائش 115 سے بڑھا کر 175 کرنے کا کہا گیا ہے۔ اسلام آباد میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وائرس کے مزید 537 کیسز کی تصدیق ہوئی جس کے بعد یہاں متاثرہ افراد کی تعداد 27 ہزار 555 ہوگئی۔ دارالحکومت میں کورونا سے مزید 6 مریض جاں بحق بھی ہوئے جس کے بعد یہاں اموات بڑھ کر 285ہوگئیں
