خیبر پختونخوا میں پشتو صحافت کو فروغ دینے والے پشتو روزنامہ وحدت کے مدیر اور آل پاکستان نیوز پیرز سوسائٹی کے سابق صدر 95 سالہ پیر سفید شاہ ہمدرد منگل کو پشاور میں انتقال کرگئے ۔پیر سفید پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں 1930 میں پیدا ہوئے۔ تقریباً 70 سال تک صحافت سے وابستہ رہنے والے پیر سفید کو حکومت پاکستان نے دو مرتبہ صدارتی ایوارڈز، تمغہ حسن کارکردگی اور تمغہ امتیاز سے نوازا۔ حال ہی میں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ان کی خدمات پر انہیں ایک گولڈ میڈل بھیجا تھا۔ پیر سفید کو ’بابائے پشتو صحافت‘ کہا جاتا ہے کیونکہ انھوں نے خیبر پختونخوا میں پشتو کے مکمل اخبار کا اجرا کیا اور اسی کے ذریعے وہ پشتو صحافت کو فروغ دیتے رہے۔ روخان نے پیر سفید کے اظہار رائے کی آزادی کے لیے کوششوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے اظہار رائے کے حمایتی ہونے کے لیے یہ ثبوت کافی ہے کہ ان کے اخبار کا جو بھی بیانیہ تھا لیکن ان میں مختلف مکتب فکر اور مختلف سوچ کے حامل افراد مضامین لکھتے تھے۔ روخان کے مطابق پیر سفید نرم مزاج، غرور نہ کرنے والے اور بہت کم غصہ ہوتے تھے، انہوں نے کبھی اپنے اخبار کے ورکرز کو یہ احساس نہیں دلایا کہ وہ مالک ہیں۔شمیم شاہد کا شمار پشاور کے ان سینیئر صحافیوں میں ہوتا ہے جنھوں نے ‘افغان جہاد’ کو کور کیا۔ انھوں نے انڈپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ پیر سفید روزنامہ وحدت سے پہلے 70 کی دہائی میں آل وحدت کے نام سے ہفت روزہ اخبار کے مالک تھے۔ ان کے مطابق جب افغان پناہ گزین ‘افغان جہاد’ کے بعد پشاور آئے تو اسی چار صفحات پر مشتمل اخبار میں افغانوں کے حوالے سے بہت خبریں چھپیں، جنہیں افغان پناہ گزین شوق سے پڑھتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان سمیت افغانستان میں بھی یہ پشتو کا واحد روزنامہ تھا جس میں ادبی مضامین سمیت روزانہ خبریں چھاپی جاتی تھیں۔شاہد کے مطابق پیر سفید اخبار کارکنان کے ساتھ بہت اچھے سے پیش آتے تھے اور ان کے اخبار میں کام کرنے والے ہر ایک شخص کو ان کے کام کے مطابق معاوضہ ملتا یعنیٰ اداریہ لکھنے والے کو الگ، کالم لکھنے والے کو الگ اور اسی طرح خبریں لکھنے والوں کو الگ پیسے ملتے تھے-



