لاہور: چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ ہڑتال کے کلچر کے خاتمے پر وکلاءاور ان کی قیادت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ،ججز اور وکلاءمیں کوئی تفریق نہیں ،وکلاءاور جج صاحبان میں ہم آہنگی کا فروغ بہت اہم ہے ،ہماری کوشش ہے کہ اپنے نظام میں جمہوری اقدار کو زیادہ سے زیادہ لے کر آئیں اور اسی کے تحت آگے بڑھیں گے، عدالتی معاملات میں وکلاءکو اعتماد میں لیا جاتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے پنجاب بار کونسل میں سنٹر آف ایکسلینس کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان ،جسٹس محمد امیر بھٹی، جسٹس ملک شہزاد احمد،وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی ،ممبر بار کونسل احسن بھون، اعظم نذیر تارڑ،صدر لاہور ہائیکورٹ بار طاہر نصراللہ وڑائچ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ انصاف کی فراہمی میں بنچ اور بار کا اہم کردار ہے ،وکلاءاور ججز کے درمیان دیوار کو کافی حد تک مسمار کیا ہے ، وکلاءکو ججز کے ساتھ وائلنٹ نہیں ہونا چاہیے ، ججز کی اپوائنمنٹ میں وکلاءکو شامل کیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ نئی حدتیں ہیںجونئے نئے راستے نکال رہی ہیں ،ہم وکلاءاور ججز میں عدالتی معاملات باہمی طریقے سے آگے لے کر بڑھ رہے ہیں،عدالتی معاملات پروکلاءکو اعتماد میں لیتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ججز کی تعیناتیوںمیںکامیاب ہوئے ہیں ،مزید ججز بھی تعینات کریںگے۔ انہوںنے کہا کہ جج کی بات کو سننا اچھے وکیل کا کنڈکٹ ہونا چاہیے ، انسان تجربے کے ساتھ سیکھتا ہے ، نئے وکلاءآتے ہیں ان میں زیادہ جوش ہوتا ہے اس لئے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جج صاحب مجھے کام نہیں کر نے دے رہے ، جج صاحب آپ کو کام کرنے دے رہے ہوتے ہیں، آپ نے سمجھنا ہوتا ہے جج صاحب آپ کو کس قسم کے کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں تاکہ آپ اسی طرف جائیں، وکلاءکی استعدادہونی چاہیے کہ وہ اپنے جج اور مقدمے کو سمجھیں اور باقی ججز پر چھوڑ دیں ، خواہش ہے کہ وکلاءبرادری اس معاملے میں ثابت قدم رہے گی ۔انہوںنے کہا کہ مجھے اس بات کی بڑی خوشی ہے کہ جب میں چیف جسٹس بننے کے بعد پہلی بار لاہور ہائیکورٹ بار کے ڈنر میں شریک ہوا تھا تو اس وقت وکلاءکی قیادت نے کہا تھاکہ ہم نے ہڑتال کا کلچر ختم کر دیاہے اور اس کے بعد پنجاب میں اور خاص طور پر لاہور میں کوئی ہڑتال نہیں ہوئی جس پر میں وکلاءبرادری اور ان کی قیادت کو مبارکباد دیتا ہوں ۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ دوستوں سے صرف ایک گزارش کرنی ہے ہم تاریخ کے اس موڑ پرکھڑے ہیں جہاں ہماری اور آپ کی سر گرمیوںکو دیکھنے کےلئے مختلف ادارے موجود ہیں اور وہ اس پر بر ملا جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ خواہ وہ سوشل میڈیا کے فورمز ہوں، الیکٹرانک میڈیا یا پرنٹ میڈیا ہو اس پر جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ زمانہ بہت آگے نکل چکا ہے ، اب یہ بات نا ممکن ہے کہ ہمارا کوئی فعل ہماری روایات کے منافی ہو اور اس کی پردہ پوشی کی جاتی رہے ۔ انہوںنے کہا کہ ان حالات میں جو اس خطے کے پسے ہوئے لوگ ہیں جو غریب لوگ ہیں وہ سسٹم کے اصل اسٹیک ہولڈرز ہیں ۔ یہ لوگ آپ کی وساطت سے انصاف کے حصول کےلئے عدالتوں کے دروازوں پر آتے ہیں،ہماری اورآپ کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ پسے ہوئے محروم طبقوں قانون کے مطابق ان کے حقوق دلائیں ،عدلیہ اور وکلاءدونوں اپنی اپنی ذمہ داری بھرپور انداز میں ادا کریں ،ہماری اور آپ کی اخلاقی طو رپر بھی ذمہ داری ہے مقدموں کے فیصلوںکو تیزی سے کریں ، یہ روایت ختم ہونی چاہیے کہ اگر دادا مقدمہ دائر کرتا تھا تو پوتے کے دور میں فیصلہ اور پڑپوتے کے دور میں اجراءکا فیصلہ ہوگا ،یہ انصاف کے تقاضوںکے مطابق نہیں ، آپ اور ہم نے اپنے فرض کو ادا کرناہے ۔ا نہوںنے کہا کہ جب میں بار کا ممبر بنا تھا تو ایک دن کا جج بھی ہوتا تھا تو اس کی عزت ہوتی تھی اوریہی معاملہ وکلاءکے ساتھ بھی تھا ، باہمی عزت کے رویے ہیں ان کو دوبارہ اسٹیبلش کرنا ہے ، بار کے لئے اجتماعی مسائل کے لئے میرے دروازے ہمہ تن کھلے ہوئے ہیں،اجتماعی مفاد کی بات ہو سکتی ہے تاکہ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں آپ کی تکالیف کو دورکیا جا سکے ۔ایک بات کہوں گاکہ ہم اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں اب یہ دیکھنا ہے کہ اس کام میں کون کون اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ قبل ازیں چیف جسٹس پاکستان نے دیگر کے ہمراہ سنٹر آف ایکسیلینس کا افتتاح کیا۔پنجاب بار کونسل کی جانب سے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا گیا جس میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان سمیت دیگر معزز ججز صاحبان اور وکلاءرہنماﺅںنے شرکت کی ۔






