کوئٹہ : جمعیت علماءاسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی سینئرنائب امیر مولانا عبدالقادر لونی‘ مرکزی جنرل سیکرٹری مفتی شفیع الدین ‘مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری نجیم خان ایڈووکیٹ‘ مرکزی جوائنٹ سیکرٹری مولانا محمود الحسن قاسمی‘ مرکزی سیکرٹری اطلاعات سیدحاجی عبدالستارشاہ چشتی نے کہا کہ سرمایہ دارنہ نظام کی تسلط سے سامراج مفادات کے لیے پوری دنیا کے مظلوم ، محکوم محنت کش عوام کے لہو سے اپنی ہوس اور درندگی کی پیاس بجھا رہے سرمایہ دارنہ اور جاگیردارانہ نظام عوامی مفاد سے عاری ہیں ملک میں مہنگائی کے طوفان سرمایہ دارنہ پالیسیوں کاتسلسل ہے ملک میں موجود معاشی بحران کی جڑیں سرمایہ دارانہ نظام کے پیوست ہونےکی باعث ہیں سرمایہ دارنہ نظام میں کمزور طبقات کی استحصال کی سواکچھ نہیں انہوں نے کہا کہ سرمایہ دارنہ جبر اور سامراجی غلبے کے خلاف کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا اسلام کے اعتدال و توازن کےمعاشی نظام نے انسانیت کی فلاح و ترقی کے لیے ایسانظام برپا کیا جو آج دنیا کے لیے مثال بن چکی ہے انہوں نے کہا کہ اسلام کے معاشی نظام کے بغیر دنیا کے کوئی موثر تمدنی نظام قائم نہیں ہوسکا سرمادارانہ نظام میں میں رحم دلی، حاجت برآری اور غریب پروری کا کوئی خانہ نہیں ہے سرمایہ دارانہ نظام نے دولت کا توازن ختم کردیا ہے۔ سرمایہ دارنہ نظام میں دولت کی حصول میں سودی نظام سے غریبوں کا خون چوسنے کا ذریعہ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ملک مہنگائی اور غربت کے دلدل میں دھنستا چلا جارہا ہے۔سرمایہ دارانہ نظام لوٹ گھسوٹ کا نظام ہے معیشت کی ترقی میں اسلامی معاشی اہم انقلابی کردار ادا کرسکتی ہے اسلامی ممالک مغرب کے سرمایہ دار اور استعماری ملکوں کا نشانہ بنے دولت کی بے جا ہوس میں ہر جائز و ناجائز ذرائع سے دولت کمانے پر اکسا رہا ہے۔ جس سے انسانیت کی خون کونچوڑا جارہا ہے جو غریب مکا کی پالیسی پرعمل پیرا ہے اس سرمایہ دارنہ نظام میں سامراجی اداروں کی جکڑ بندیوں اورمعاشی بحران سے نجات حاصل کرنا ناممکن ہے معیشت کی استحکام کے لیےاسلامی معاشی نظام کے نفاذ ناگزیر ہوچکا ہے۔
