آصف بلوچ پر کسی بھی نوعیت کا الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، والدین

آصف بلوچ پر کسی بھی نوعیت کا الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، والدین

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

خضدار: محمدآصف بلوچ کی ہمشیرہ سارہ بلوچ سلمی بلوچ اسماء بلوچ اور والدین کی پریس کانفرنس ہمشیرہ سارہ بلوچ پریس کانفرنس پڑھتے ہوئے کہاکہ ان کے بھائی آصف بلوچ کو گزشتہ دنوں پولیس نے کوئٹہ سے لاپتہ کردیا میرا بھائی ایک سال قبل پشاور یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی تھی اور اپنے مستقبل کی تعمیرکے لیے کوشاں تھےانہوں نے کہا کہ آصف بلوچ ایک ہفتہ قبل کوئٹہ میں ایک ٹیسٹ کی تیاری کے سلسلے میں گئے تھے جہاں وہ اپنے دو دوستوں کے ساتھ مقیم تھے جنہیں 13 جولائی 2026 کی صبح تقریباً 3 بجے رہائشی کمرے پر چھاپہ مارا اور مبینہ طور پر بغیر کسی وارنٹ کے آصف بلوچ اور ان کے دو دوستوں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا انہوں نے کہا کہ واقعے کو پانچ روز گزر چکے ہیں، لیکن اہلِ خانہ کو ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں جس کے باعث خاندان شدید ذہنی اذیت اور بے چینی کا شکار ہےسارہ بلوچ کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد ان کے بڑے بھائی معلومات حاصل کرنے کے لیے کوئٹہ پہنچے جہاں مقامی افراد اور عینی شاہدین نے بتایا کہ 12 جولائی کی رات تقریباً 2 بجے ایک بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑی علاقے میں آئی کچھ دیر گشت کرنے کے بعد واپس چلی گئی اور تقریباً ایک گھنٹے بعد دوبارہ نمودار ہوئی ان کے مطابق 13 جولائی کو چار افراد کو اپنے ساتھ لے گئےاہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ کاروائی میں شامل افراد خود کوپولیس اہلکار ظاہر کررہے تھےانہوں نے مزید کہا حالانکہ پولیس کی ذمہ داری شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا اور قانون کے مطابق کاروائی کرنا ہےپریس کانفرنس کے دوران سارہ بلوچ نے کہا اگر آصف بلوچ پر کسی بھی نوعیت کا الزام ہے تو انہیں آئین اور قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے سارہ بلوچ نے تمام متعلقہ اداروں، وفاقی و صوبائی حکومت، عدلیہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ آصف بلوچ اور ان کے ساتھ حراست میں لیے گئے دیگر افراد کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان پر کوئی الزام موجود ہے تو انہیں آئین اور قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائےانہوں نے بلوچستان حکومت اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ یکم فروری 2026 کے بعد جبری گمشدگیوں کے خاتمے سے متعلق اپنے اعلان پر عملی اقدامات کریں اور ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنائیں انہوں نے وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس ہائی کورٹ،وزیراعلی بلوچستان ودیگرسے اپیل کی کہ محمد آصف کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور خاندان کی بے چینی کا خاتمہ کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!