کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماﺅں نے شہید نواب امان اللہ خان زہری اور دیگر شہداءکو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ پارٹی نے ہمیشہ خندہ پیشانی سے ہرمشکل کامقابلہ اوراپنے اصولی موقف پرکاربند رہتے ہوئے بلوچستانیوں کے حقوق ،وسائل پر واک واختیار ،بلوچوں کی بقاءاور قومی تشخص پرٹھوس موقف اپنایاہے ، ہماری منزل ایم پی اے ،ایم این اے اور سینیٹر بننا نہیں بلکہ حق خود ارادیت کا حصول ہماری منزل ہے ،شہید نواب امان اللہ زہری ودیگر شہداءکی قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہے ، حیات بلوچ کا ہتھیار اس کا قلم تھا جس کی پاداش میں اسے اس کے والد والدہ کے سامنے ہاتھ پاﺅں باندھ کر بے دردی سے قتل کیا گیا ہم کسی صورت صوبے میں ہونے والے مظالم پر خاموشی اختیار نہیں کرسکتے بلوچستان میں آباد تمام اقوام کو یکجا کرکے صوبے کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔ان خیالات کااظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل وسینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، بلوچستان اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی، پارٹی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسی بلوچ،بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین نذیر بلوچ ، غلام نبی مری ، رکن صوبائی اسمبلی اختر حسین لانگو، جاوید بلوچ، عبدالغفور مینگل ، اراکین اسمبلی شکیلہ نوید دہوار ،احمد نواز بلوچ، ٹکری شفقت لانگو ، صوفی عبدالخالق،شمائلہ اسماعیل، یونس بلوچ، حاجی ابراہیم پرکانی،آغا خالد شاہ دلسوز ودیگر نے شہید نواب امان اللہ خان زہری کی پہلی برسی کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مقررین نے شہید نواب امان اللہ خان زہری اور انکے ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکی جدوجہد ہمارے لیے مشعل راہ ہے شہداکے لہو سے ہماری جدوجہد کو تقویت ملی ہے یہ ایک طویل سفر ہے جسے ہمیں ثابت قدمی اور مستقل مزاجی سے طے کرنا ہے ،شہید نواب امان اللہ زہری کے آباﺅاجداد نے بھی بلوچ وطن اور بلوچستان کیلئے قربانیاں دیں پارٹی شہداءکے نقش قدم پر چلتے ہوئے بلوچستان کی بقاءاور قومی تشخص کو ملحوظ خاطر رکھ کر ثابت قدم ہو کر جدوجہد کر رہی ہے ۔مقررین نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے وفاقی حکومت سے کسی ذاتی فائدے کیلئے معاہدہ نہیں کیا ہم نے صوبے کے اجتماعی قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے وفاقی حکومت سے چھ نکاتی معاہدہ کیا تاہم دو سال گزرنے کے باوجود حکومت ان میں سے کسی ایک معاہدے پر بھی عملدرامدنہ کراسکی صوبے میں ساڑھے پانچ سو کے قریب افراد بازیاب ضرور ہوئے مگر اس سے دو گنا لوگ لاپتہ ہوئے ہیں جس پر ہم نے حکومت سے اپنی راہیں جدا کی ،مقررین نے کہا کہ ہماری منزل ایم پی اے ،ایم این اے اور سینیٹر بننا نہیں بلکہ حق خود ارادیت کا حصول ہماری منزل ہے ہمارے ساتھیوں کی کمزوریاں ضرور ہونگی مگر ہدف کے حصول کیلئے جدوجہد میں کسی سے پیچھے نہیں رہیں گے انہوں نے تربت میں طالب علم حیات بلوچ کی المناک شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حیات بلوچ کا ہتھیار اس کا قلم تھا جس کی پاداش میں اسے اس کے والد والدہ کے سامنے ہاتھ پاﺅں باندھ کر بے دردی سے قتل کیا گیا ہم کسی صورت صوبے میں ہونے والے مظالم پر خاموشی اختیار نہیں کرسکتے بلوچستان میں آباد تمام اقوام کو یکجا کرکے صوبے کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔ مقررین کے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی شہداکی جماعت ہے صوبے کے وسائل پر واک و اختیار کیلئے بلوچستان نیشنل پارٹی نے ہمیشہ ہر مشکل کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کرتے ہوئے ثابت قدم رہ کر جدوجہد کی ہے اور اس جدوجہد کو آگے بڑھارہے ہیں۔ جب تک قوموں کو انکے حقوق نہیں دیئے جاتے تب تک کسی سے کوئی خیر کی توقع نہیں کرسکتے۔ رہنما ں نے کہا کہ نفرتوں، آپسی اختلافات، مذہب، زبان اور رنگ و نسل کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرکے انکے وسائل کو لوٹا جارہا ہے۔رہنماں نے کہا کہ شہدانے بلوچ قومی حقوق کیلئے نظریاتی فکری جدوجہد کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا بلوچستان نیشنل پارٹی اپنے شہداکی عظیم قربانیوں کو فراموش نہیں کرسکتی ہے ۔






