اسلام آباد: ملک کے بیشتر حصوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ آئل مارکیٹنگ کمپنیز اور متعلقہ حکام کی مقررہ ڈپوز پر ضروری اسٹاک کو یقینی بنانے میں ناکامی ہے، قیمتوں میں نظرثانی کے بعد مہینے کے پہلے دو دن چھوٹے اسٹاک کے فوری ختم ہو جانے کے بعد بہت سے شہروں اور علاقوں میں عام طور پر پیٹرول کے نام سے مشہور گاڑیوں کے ایندھن (موٹر گیسولین) کی سپلائی میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، تیل کمپنیوں کو پیٹرولیم ڈویژن کے حکام اور اوگرا کی جانب سے اسٹاک کے مکمل خاتمے سے بچنے کے لیے مخصوص طریقہ کار اپنانے کا کہا گیا انہوں نے پیٹرول پمپس کو ہدایت کی کہ وہ ہر گاڑی کو زیادہ سے زیادہ 500 یا 1000 روپے تک کا پیٹرول فراہم کریں تاہم اس کے باوجود منگل کو اکثر پمپس میں پیٹرول ختم ہوگیا۔
