خضدار(نامہ نگار)خضدار کی اراضیات پرحقِ ملکیت کے حوالے سے میرو معتبرین رئیس اور قبائلی زعماءکا ایک جرگہ خضدار میں منعقد ہوا۔ جرگہ کی صدارت ارباب جھالاوان ارباب محمد نواز مینگل کررہے تھے ۔ان کی رہائشگاہ پر منعقد ہونے والے جرگے میں مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے عمائدین نے کثیر تعداد میں شرکت کی،پہلے مرحلے میں جرگے سے قبائلی عمائدین نے خطاب کیا ، بعد ازاں قرار داد کے ذریعے اپنے مطالبات پیش کیئے گئے اور اختتامی سیشن میں جرگہ نے ارباب محمد نواز مینگل کی قیادت میں 8رکنی کمیٹی تشکیل دیدی،۔ جرگہ میںاراباب محمد نواز مینگل ، رئیس ڈاکٹر عبدالقدوس کرد، رئیس زادہ حاجی جاوید سوز مینگل ، سردار محمد طیب زنگیجو ، رئیس علی احمد بلوچ ، ماسٹر عبدالخالق غلامانی ، غلام مصطفی کرد، رئیس نوراحمد ، رئیس محمد ابراہیم ، غلامصطفیٰ حاجی شیر گزگی ، نثاراحمد گزگی ، ٹکری محمد یوسف کرد ،صابر حسین قلندرانی ، رئیس شفقت کرد ،عبدالحمید غلامانی نثاراحمد جانی ، آغاسلطان ابراہیم احمد زئی ، حیدرزمان بلوچ، بلوچ خان زرکزئی ، علی اکبر بلوچ ، سید کلیم اللہ شاہ ، عبدالستار گزگی ، عبدالقادر گزگی ، ماما علی حسن گزگی ، سعداللہ محمد زئی ، سراج احمد غلامانی ، ایڈوکیٹ خالدمحمود غلامانی ودیگر نے شرکت کی ۔جرگہ میں قرار داد کے ذریعے حکومت سے جومطالبہ کیا گیا اس میں درج ذیل نکات شامل تھے ۔(1)خضدار کی تمام اراضیات کو 1972سے1981تک کے خسرجات کھتونی بحال کیئے جائیں ۔(2)خضدارکے تمام غیر آباد زمین بنجر قدیم زمینوں پر مالکان حقوق بحال کیئے جائیں (3)خضدارکی زمینوں کالجز ، یونیورسٹیز یا دیگر تعلیمی ادارے قائم کیئے جانے کی صورت میں ایک تا14گریڈکی آسامیوں پر مقامی زمین مالکان کے خاندانوں سے نوجوان بھرتی کیئے جائیں ۔ (4)خضدار کی زمینوں پر دیگر حکومتی اداروں کے قیام مثلاًانڈسٹریز یا دیگر حکومتی ادارے وغیر کے قیام کی صورت میں زمین مالکان کو معاوضہ دیاجائے ۔ (5)پہلے سے منظور شدہ معاوضہ جات جو کہ خضدار کینٹ ایریا،سینٹرل جیل ،بی سی کیمپ، پولیس لائن ودیگر کے معاوضہ جات فوری طور پر ادا کیئے جائیں ،اور اس علاقے میں جو زمینیں ہیں وہ زمین مالکان کو واپس کیئے جائیں ۔(6)خضدار کے مقامی زمین مالکان کی زمینوں پر قبضہ گیریت ختم کیئے جائیں ۔(7)زیرینہ کھٹان میں زمینوں پر قبضہ فوری طور پر ختم کیئے جائیں ۔(8)خضدارکے مقامی زمین مالکان کے قبضہ اور خان قلات کی سند کو بحال کیا جائے ۔(9)ٹاﺅن شپ کی زمین پر مالکانہ حقوق اور ان زمینوں کا معاوضہ دیا جائے ۔(10)شوخڑو، کھٹان ، سنی ، خیراوہ کے پیمائش جلد ازجلد کیا جائے جو تاحال رکاہوا ہے ۔قبل ازیں جرگہ کے شرکاءسے اربابءجھالاوان ارباب محمد نوازمینگل ،رئیس عبدالقدوس کرد، رئیس حاجی جاوید سوز مینگل ، سردار محمد طیب زنگیجو ، صابرحسین قلندرانی ، ماسٹر عبدالخالق ، علی احمد گزگی ، غلام مصطفی گزگی ، ٹکری محمد یوسف کرد، عبدالحمید غلامانی، نثار جانی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج کا جرگہ منعقد کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ یہ سب اراضیات یہاں کے قبائل اور افراد کے ہیں اور یہاں کا ایک پتھر بھی کسی کا نہیں ہے ۔جب خان قلات نے کہاکہ میری کوئی زمین یہاں نہیں ہے تو بعد میں آنے والی گورنمنٹ کیسے کہہ سکتی ہے کہ ان کی یہاں زمین موجود ہے ۔مقررین نے کہاکہ ہم خاموشی اور شرفت کی وجہ سے یہ سزا کاٹ رہے ہیں اور ہماری زمینوں کو ہم سے زبردستی لیا جارہاہے ،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خضدار کی تمام اراضیات 1980ءتک یہاں کے قبائل کے نام پر تھیں اس کے بعد ان کی حقِ ملکیت کیوں مٹا دی گئی ہے اور اس کے بعد کی ڈگریاں ان کے نام پرکیوں نہیں ہیں ۔خضدار کی زمینوں کی اسناد ڈگریز ساڑھے آٹھ سو (850)سال سے ہمارے پاس موجود ہیں ۔یہ اسناد و تحاریر فارسی اور اردو زبان سمیت دیگر زبانوں میں ہیں ۔اور کچھ ایسی قدیم زبانیں بھی ہیں کہ جن آج کل کوئی نہیں سمجھتا ہے تاہم یہ مسلمہ ہے کہ یہاں کے لوگ اور قبائلی معتبرین کے پاس وہ اسنادان ناپید زبانوں میں تحاریر موجود ہیں جو کہ ثبوت کے لئے کافی ہیں ۔خان قلات ، نوری نصیر خان کے اسناد موجود ہیں ، نوری نصیر خان کے دور کے معاہدات مقامی قبائل کے پاس موجود ہیں جو کہ انہوںنے255 سال کے لئے تحریر کی ہیں ۔ ان کا جب یہاں سے گزر ہوا تو انہوںنے یہ معاہدہ کیا کہ اگر ایک( سونف)کا نقصان ہوا تو اس کا میں آپ کو معاوضہ دونگا ۔ان تمام اسناد اور ثبوتوں کے بعد کیسے کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ اراضیات خضدار کے لوگ اور قبائل کے نہیں ہیں ۔خضدار تحصیل میں واقعہ تمام اراضیات مقامی قبائل اورمقامی لوگوں کی ہیں ۔ جہاں گورنمنٹ اور دوسرے علاقوں سے آئے لوگ یہاں اراضیات خرید لیئے یا زبردستی قبضہ کیا ہے۔نوبت اب اس حد تک پہنچی ہے کہ یہاں کے لوگوں کو ان کی ارضیات سے بے دخل کیا جارہاہے ، جو زمینیں گورنمنٹ یاد وسرے لوگوں نے حاصل کیئے ہیںوہ اصل مالکان کو نہیں دیا جارہاہے ۔ہم نے آج تک کسی کی اراضیات سے کوئی ایک پتھر بھی نہیں اٹھایا ہے جب ہم کسی اور کی اراضی پر تعارض نہیں کررہے تو کیونکر گورنمنٹ یا دیگر لوگ ہماری اراضیات پر قبضہ کررہے ہیں ۔مقررین نے کہاکہ یہ سب دستاویزاسناد کتابی شکل میں ہمارے پاس موجود ہیں نہ صرف ہم زبان سے کچھ کہہ رہے ہیں بلکہ ہم تمام ترثبوتوں کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ یہ اراضی ہماری ہیں ۔ لہذا ہماری حقِ ملکیت کوتسلیم کیا جائے اور ہماری اراضی پر 1972سے81 19تک کی ڈگریز کو بحال کیا جائے ۔ مقررین نے کہاکہ خضدار میں بولان انٹر پرائزز کمپنی ، ائیر پورٹ ، ایف سی کیمپ اوریونیورسٹی کا معاوضہ ایچ ای سی کی طرف سے یہاں کے زمین مالکان کو مل چکا ہے ان کے ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں ،اسی طرح چھانی کی اراضی بھی یہاں کے زمین مالکان سے لیئے گئے اور اس کے لئے فی ایکڑ 20ہزار روپے منظور ہوئے ، تاہم بعد ازاں بیورو کریسی اورتحصیلدار نے اس اراضی کو پہلے پندرہ ہزا ر اور بعد ازاں پانچ ہزار تک لیکر آیا جس پر لوگوں نے انکار کیا اور یہ رقم نہیں لی ۔اس چھانی کا معاوضہ آج تک رکا ہوا ہے ۔ گورنمنٹ لوگوں کی اراضی واپس کردے یا انہیں معاوضہ ادا کرے ۔ جہاں قومی محکمہ جات یا تعلیمی ادارے قائم کیئے جاتے ہیں وہاں قبائل کو ملازمتوں میں بھی حق نہیں دیا جارہاہے ۔آج کے جرگے کا مقصد یہی ہے اور قبائلی معتبرین جمع اس لیئے ہوئے ہیں کہ جتنی اراضیات ہیں ان پر ہمارے حق ملکیت کو تسلیم کیاجائے ۔ جو اراضیات گورنمنٹ کے قبضے میں ہیں ان کو بھی یہاں کے مالکان کو دیئے جائیں یا ان کا معاوضہ ادا کیا جائے ۔آج کے جرگے میں در ج بالا قرار داد اور مطالبات پیش کیئے گئے ہیں حکومتِ وقت ان مطالبات کو تسلیم کرکے خضدار کے زمین مالکان کو اطمینان بخش جواب دے ۔انہوںنے کہاکہ آج کے جرگہ کی توسط سے ایک کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جو فیصلہ کرکے آئندہ تین روز میں پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے فیصلہ سے عوام کا آگاہ کریگی۔جرگے میں ارباب محمد نواز مینگل کی سربراہی میں سات رکنی کمیٹی تشکیل دیدی گئی ، جس میں سردار محمد طیب زنگیجو، رئیس عبدالقدوس کرد، صابر حسین قلندرانی ، آغا سلطان ابراہیم ، رئیس علی احمد ، رئیس جاوید سوز مینگل ،ہونگے ، جب کہ بعد ازاں ساسول سے بھی ایک نمائندہ کمیٹی میں شامل کرلیا گیا ۔
