سوڈان: نئی قائم حکومت اسلامی قوانین کو ختم کرنے کا فیصلہ

سوڈان: نئی قائم حکومت اسلامی قوانین کو ختم کرنے کا فیصلہ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

خرطوم :سوڈان میں قائم نئی حکومت نے 40 سال تک نافذ العمل اسلامی قوانین میں سے متعدد کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ، قوانین میں غیر مسلموں کو شراب پینے کی اجازت ،مرتد کی سزائے موت ختم ، خواتین کے ختنے جیسی روایت پر پابندی کا اعلان کردیا سوڈان میں بعض اسلامی قوانین کے خاتمے کا فیصلہ۔سوڈان میں شرعی قوانین کے مطابق مرتد کی سزا موت ہے تاہم ملک کے وزیر انصاف نصیر الدین عبد الباری نے ایسے قوانین میں اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کو ختم کیا جائے گا اور خواتین کے ختنے جیسی روایات پر پابندی عائد کی جائے گی۔سوڈان کی نئی حکومت نے گزشتہ تقریبا ًچالیس برسوں سے نافذ سخت اسلامی قوانین میں بعض نرمیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ غیر مسلموں کو ہنگامہ اور فساد برپا نہ کرنے کی شرط پر شراب پینے کی اجازت دی جائے گی۔سوڈان میں عمر البشیرکی حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تھے جس کے بعد تقریباً تیس برس بعد ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوا اور نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے ایک برس بعد ان اصلاحات کا اعلان کیا گیا ہے۔ملک کے وزیر انصاف نصیرالدین عبد الباری نے سرکاری ٹی وی پر ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ اب سوڈان ”غیر مسلوں کو اس شرط پر شراب پینے کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اس سے امن امان کو خراب نہیں کریں گے اور سر عام شراب پینے سے گریز کریں گے۔” سوڈان کے سابق صدر جعفر النمیری نے سن 1983 میں ملک میں شرعی قوانین کا نفاذ کرتے ہوئے شراب پر پابندی عائد کر دی تھی۔ انہوں نے شراب پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے دارالحکومت خرطوم میں وہسکی کی بوتلیں دریائے نیل میں غرق کردی تھیں۔ شرعی قوانین کے مطابق مسلمانوں کے لیے شراب پینا حرام ہے تاہم مسلم اکثریتی ملک سوڈان میں مسیحی برادری کی بھی ایک بڑی تعداد رہتی ہے۔سوڈان نے مرتد ہونے کی سزائے موت کو ختم کرنے اور خطے میں خواتین کے ختنے کے چلن کو بھی ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ افریقی ممالک میں مسلم اور عیسائی برادری سمیت تقریبا ًتمام مذاہب کی خواتین کے ختنے کی روایت عام ہے۔ بچوں کی فلاح و بہود کے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی 2014 کی ایک رپورٹ کے مطابق 86 فیصد سے بھی زیادہ سوڈانی خواتین اس رسم کا شکار بنتی ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!