محبوبہ کو قتل کرنے والا روسی مورخ انصاف کے کٹہرے میں

محبوبہ کو قتل کرنے والا روسی مورخ انصاف کے کٹہرے میں

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

روس کے ایک تاریخ دان کو قتل کے مقدمے کا سامنا ہے۔ استغاثہ نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ تاریخ کے استاد کو قتل کے الزام کے تحت کم از کم پندرہ برس کی سزا سنائی جائے۔ اولیگ سوکولوف کے وکیل ایلکسانڈر پوشیو سینٹ پیٹرزبرگ کی ایک ضلعی عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روسی مورخ کا نام اولیگ سوکولوف ہے۔ انہیں فرانس کا معتبر ‘لیجن آف آنر‘ کا میڈل بھی دیا جا چکا ہے۔ وہ فرانسیسی جرنیل نپولین کے شدید مداحوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ سینٹ پیٹرزبرگ یونیورسٹی میں ملازم تھے۔ ان پر اپنی نوجوان محبوبہ کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔ اب اس مقدمے میں عدالتی کارروائی اپنی تکمیل کو پہنچنے والی ہے۔ یہ مقدمہ روسی شہر سینٹ پیٹرزبرگ کی ایک عدالت میں چلایا جا رہا ہے۔ اس مقدمے کو گھر میں استحصال کے تناظر میں بھی لیا جا رہا ہے اورایسے جرائم کے خلاف آوازیں بلند کرنے والے سرگرم افراد مبینہ ملزم اور پروفیسر سوکولوف کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ عدالتی کارروائی رواں برس جون میں شروع ہوئی لیکن کورونا کی عالمی وبا کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی۔ عدالتی کارروائی کے دوران اولیگ سوکولوف کو شیشے کے ایک کمرے میں قید رکھا گیا۔ استغاثہ نے سوکولوف کو پندرہ برس کی سزائے قید سنائے جانے کے علاوہ انہیں قیدیوں کی ایک کالونی میں پابند کرنے کی درخواست بھی کی۔ عدالتی کارروائی کے دوران سوکولوف مسلسل بے چینی کے ساتھ اپنی کرسی پر آگے پیچھے حرکت کرتے رہے۔ استغاثہ کے مطابق ملزم قتل کے علاوہ غیر قانونی آتشیں اسلحہ رکھنے کا بھی مرتکب ہوا ہے۔ کارروائی کے دوران جب پروفیسر سوکولوف سے پوچھا گیا کہ آیا وہ اپنا جرم تسلیم کرتے ہیں تو انہوں نے اس کے جواب میں کہا کہ وہ جرم تسلیم کرتے ہیں اور انہیں اس پر شدید پچھتاوا ہے۔ اولیگ سوکولوف نومبر سن 2019 میں ایسے عالم میں گرفتار کیے گئے، جب وہ شراب کے نشے میں دھت تھے اور مقتولہ اناستسیا یشچینکو کے منجمد جسم سے کٹے ہوئے بازو ایک تھیلے میں ڈال کر کہیں لے کر جا رہے تھے۔ گرفتاری کے فوری بعد انہوں نے اپنی محبوبہ اور سابقہ شاگرد چوبیس سالہ اناستسیا کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا تھا۔ انہوں نے اس کا بھی اعتراف کیا کہ انہوں نے لاش کے ٹکڑے بھی کر دیے تھے۔ ان کو اس وقت گرفتار کیا گیا، جب وہ منجمد دریائے موئیکا کے کنارے پر کی طرف جا رہے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!