لاڑکانہ(کوہ یار نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل نے گڑھی خدا بخش میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ‘ پارٹی قیادت و دیگر کا کہ انہوں نے آج کے جلسے میں مدعو کیا آپ کی اجازت سے سندھ کی دھرتی پر آیا ہوں اور عجیب بات ہو گی تو کہ سندھی میں کچھ الفاظ بول لوں سندھ کی دھرتی سے تعلق رکھنے والوں آپ کو جتنی آپ کی مٹی عزیز ہے آج جن انداز میں ہمارا استقبال کیا گیا سندھ کی ثقافت ‘ مہمان نوازی کا جو نقشہ پیش کیا گیا اس پر اپنے دوستوں ‘ مجمعے میں بیٹھے تمام دوستوں ‘ قیادت ‘ کارکنوں ‘ مختلف علاقوں سے آئے سیاسی پارٹیاں سے تعلق رکھنے والے دوستوں کا اپنی پارٹی کی جانب سے شکریہ ادا کرتا ہوں دل کرتا ہے کہ سندھی میں تقریر کروں مگر مجبوری ہے کہ سندھی میں کچھ لوگ میری بات نہ سمجھ سکیں تمام قومی زبان قابل احترام سندھ اور بلوچستان کے جو رشتے ہیں کئی سال سے ہمارے رشتے ہیں ہمارے رشتوں کو نہ سیاست ‘ نہ آمریت کیونکہ بلوچوں کی پناہ گاہ سندھ رہی ہے سندھ میں مصیبت آئی تو بلوچستان ان کی پناہ گاہ رہی ہے انہوں نے کہا کہ آج شہید محترمہ بے نظےر بھٹو کی 13ویں برسی پر ہم آج جمع ہیں شہید نے اپنی تمام تر زندگی جمہوریت کی بحالی ‘ جمہوری اداروں کی مضبوطی ‘ آمروں کا مقابلہ ‘ پارلیمنٹ کی بالادستی ‘ محکوم عوام کے حقوق کی آواز بلند کی یہاں تک کہ اسی جدوجہد میں وہ شہید کی گئیں ایک آمر کے دور سے شہید نے اپنے سیاست کا آغاز کیا اور آمر کے دور میں ان کو شہید کیا گیا کون ہیں وہ آمر آج ہمارے سامنے یہ سوال اٹھتا ہے کہ جن آمروں کے خلاف جہاں جدوجہد کی گئیں عوام نے جمہوریت کے علم بلند کرنے کی کوشش کی گئی ان آمروں کا تعلق کسی غیر ملکی فوج سے تھا یا کسی دوسرے ملک سے تھا نہیں آج ہمیں سوچنا یہ ہے کہ آج اس مقبرے میں جو قبریں ہیں وہ کن کے ہاتھوں سے ہیں یہاں پر سیاسی پارٹی کے ورکروں کو ڑے مارے گئے کن کے ہاتھوں سے لوگوں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا آمر کہاں سے تھے عورتوں کو بیوہ کر دیا گیا سیاست پر قبضہ کر لیا گیا پارلیمنٹ پر قبضہ کیا گیا آئین کو توڑا گیا سیاستدانوں کو پابند سلاسل ‘ جلاوطن تک کر دیا گیا بچوں کو اغواءکیا گیا کون ہیں وہ میں اس کا الزام کس پر لگاﺅں اس کا ذمہ دار جنرل آروڑا تو نہیں تھا بلوچستان میں آپریشن کئے گئے اس ملک کے آمروں نے ہم پر حملہ کیایہاں کر آئین توڑا ‘ ماﺅں بہنوں کو بیوہ ‘ بچوں کو یتیم کیاگیا شہروں کے بجائے قبرستان آباد کئے گئے مجھے ایک مثال دی جائے گاﺅں کے گاﺅں قبضہ ‘ سکول قبضہ کر دیئے گئے کل ایک دوست نے پرچہ دیا کہ کراچی میں ملیریا کے سکولوں پر قبضہ کر کے طلباءکو باہر نکال دیا گیا ہے اپنے بچوں کو نہیں پڑھا سکتے دشمنوں کے بچوں کو کہاں پڑھا سکیں گے 70سالوںمیں سیاسی پارٹیوں کو توڑا گیا مختلف گروپ ‘ قبائلی جھگڑے پیدا کئے گئے ایک قوم کو دوسرے قوم سے لڑایا گیا آج یہ بتائے کہ جس ملک سے آپ کی دشمنی ہے اس کی ایک انچ زمین قبضہ کی نہیں اپنی زمین گئی ہے آپ کی ‘ ہاں اور امداد اور ہتھیار ملے وہی ہتھیار جو ہم پر استعمال کئے گئے انہوں نے کہا کہ ملک میں ان کی بالادستی کو ختم نہیں کیا گیا جمہوریت کا علم بلند نہیں کیا جاتا سندھی میں رہنے والوں کو سندھی ‘ بلوچستان میں رہنے والوں کو بلوچستانی ‘ پنجاب والوں کو پنجابی سمجھا جائے اور برابر کے حقوق دیئے جائیں تب ہم کہیں کہ جمہوریت کا علم بلند ہو سکتا ہے لاپتہ افراد کا مسئلہ ہے بلوچستان میں اسی طرح سندھ میں بھی لاپتہ افراد کا مسئلہ ہے پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کیلئے کیمپ لگے ہوئے ہیں ہماری خواتین نے کراچی ‘ اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا خضدار میں ایک معصوم بچے کو میڈل دے رہا ہے تو اس کے کہا مجھے میڈل نہیں والد لوٹا دو خواتین بچوں کو یہ تک پتہ نہیں کہ ان کے لاپتہ افراد کی قبریں کہا ہیں ہمارے سینے میں بھی دل پتھر نہیں ابھی تک یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کے لوگ ناراض ہیں ہم وہاں نہیں چل سکتے جہاں ہماری عزتیں محفوظ نہیں ہوں کوئی چیز میرے لئے قیمتی نہیں ہمارے لئے ماﺅں بہنوں کی عزت قیمتی ہے لوگ ہجرت کرتے ہوئے اس سرزمین پر جہاں ان کی عزتیں محفوظ نہیں ہم علیحدہ نہیں ہونا چاہتے مگر ہماری عزتوں پر ہاتھ مت رکھ‘ بچوں کو یتیم ‘ خواتین کو بیوہ مت کرو بنگلہ دیش کو الگ کرنے والے ذمہ دار آپ ہیں سندھ اور بلوچستان میں ظلم جاری رہا تو اس کے ذمہ دار وہ ہوں گے انہوں نے کہا کہ کریم بلوچ سیاسی کارکن تھی پہلے ان کے بھائی ‘ چچا کو شہید کیا گیا جب یہاں سیاسی سرگرمیاں زیادہ ہوئیں تو دھمکیاں دی گئیں تو پناہ لے لی گئی دو دن سے لاپتہ تھیں کینیڈا میں پر ان کی لاش ملی کہاں جا رہا ہے کہ اس کے خودکشی کی کریم بلوچ وہاں کیسے خود کشی کر سکتی ہے یہ سوالیہ نشان ہے مجھے مشرف کا بیان یاد ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ہم ان کو ایسے ماریں گے کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا کریمہ بلوچ واقعہ کے بعد سابق آمر کا بیان درست لگتا ہے ۔






