کوئٹہ( اسٹاف رپورٹر) وزیراعلی بلوچستان کے اسپیشل کمیٹی برائے محکمہ صحت نے گڈز ٹرانسپورٹ کے گودام سے کورونا وائرس کے سیریس مریضوں کے علاج میں استعمال ہونے والے پچانوے ہزار انجکشن قبضے میں لے لیے ۔ انجکشن غیر قانونی طریقے سے ہمسایہ ملک افغانستان اسمگل کئے جا رہے تھے ۔ منگل کے روز وزیراعلیٰ بلوچستان کی اسپیشل کمیٹی براے محکمہ صحت کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم کٹکیزئی،سنیئر ڈرگ انسپکٹر سرور خان کاکڑ نے خفیہ اطلاع پر ائیرپورٹ روڈ پر واقع گڈز ٹرانسپورٹ کے گودام پر کورونا وائرس کے سیریس مریضوں کے علاج میں استعمال ہونے والی دوائی انجکشن ڈیکاڈران (ڈیکسامیتھاسون) کے 95000 ہزار انجکشن قبضے میں لے لیے ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر سلیم ابڑو کے مطابق بڑی تعداد میںانجکشن غیر قانونی طریقے سے کوئٹہ سے ہمسایہ ملک افغانستان اسمگل کیے جا رھے تھے جسے محکمہ صحت کی ٹیم نے ناکام بنا تے ہوئے کیس رجسٹرڈ کر دیا ہے ،اسمگلنگ کیے جانے والا انجکشن بلوچستان ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ہزاروں مریضوں کے لیے کافی ھو سکتے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہیلتھ سروسز کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ڈرگ مافیاءکے خلاف کاروائی جا رہی ہے۔ سینئر ڈرگ انسپکٹر سرور خان کاکڑ کے مطابق انجکشن ڈیکاڈران (ڈیکسامیتھاسون) کا اسٹاک کوئٹہ میں موجود ڈسٹربیوشن کے پاس کئی دنوں سے ختم ہو چکا تھا، کورونا وائرس کے علاج میں استعمال ہونے سے انجکشن کی ڈیمانڈ اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت انجکشن ڈیکاڈران بلیک میں مل رھا ہے بلیک مارکیٹ میں پکڑے گئے انجکشن کے اسٹاک کی قیمت کروڑوں روپے ہیں۔






