وفاقی حکومت کی چھ نکات سے روگردانی سمجھ سے بالاتر ہے ،  نوبزادہ حاجی لشکری رئیسانی

وفاقی حکومت کی چھ نکات سے روگردانی سمجھ سے بالاتر ہے ، نوبزادہ حاجی لشکری رئیسانی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

قلات: بی این پی کے مرکزی رہنماء نوبزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے قلات میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے ہم نے چھ نکات اس لئے مرکزی حکومت کے سامنے رکھے تاکہ بلوچستان میں لوگ خوشحال ہو سکیں اس کے بدلے وزارتیں بھی لے سکتے تھے اور اس کی پارٹی کو پیشکش بھی کی گئ ہم نے بلوچستان کی وسیع تر مفاد کے آگے ٹکرایا افغان مہاجرین کے باعث معاشی بحرن پیدا ہوچکی ہے دہشت گردی ہورہی ہے ان کی واپسی ہونی ضروری ہے مسنگ پرسن کا مسلہ گوادر کے ؤسائل پر بلوچستان کا حق قانونی اور آہینی تسلیم کرنا بلوچستان میں لوگوں کی زندگیاں پانی کے بغیر نامکمل ہیں اور پانی کا زریعہ بارشوں پر ہے اور پانی بغیر ڈایمز کے روکتی نہیں ہے ڈایم کی ضرورت ہے روزگار کی ضرورت ہے مرکزی اداروں میں صوبہ کا نوکریوں کوٹہ بحال کرنا شامل ہے تین سال ہورہے ہیں پی ٹی آئی نے اس پر عمل درآمد نہیں کیا اور بہانہ بازی سے اپنا کام آگے چلاتے رہے ہیں جس پر ہم نے سینڑلکمیٹی میں فیصلہ کیا کہ مزید نہیں رہا جاسکتا مرکزی حکومت کے ساتھ یہ بات بھی یہاں ضرور ہے کہ پی ٹی آئی کے چھ ہم ارکان کے ہمارے اور پی ٹی آئی کے معاہدے کے دستاویزات پر دستخط ہیں اب حکومت کی روگردانی سمجھ سے بالاتر ہے آج بھی چھہ نکات پر اگر عمل ہو تو اس کا فیصلہ بھی سینٹرل کمیٹی کریگی ہم اسمبلی میں بیٹھ کر اپنے غریب لوگوں کی بات کریں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!