کوئٹہ میں ہزارہ برادری نے مچھ واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مغربی بائی پاس شاہراہ پر دھرنا دے دیا۔ دھرنے کی وجہ سے ٹریفک معطل ہو گئی ہے۔ سیکرٹری داخلہ بلوچستان حافظ عبدالباسط نے تصدیق کی کہ مرنے والے دس میں سے نو افراد کا تعلق افغانستان اور ہزارہ برادری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعہ جہاں ہوا ہے وہ پہاڑی علاقہ ہے اور وہاں موبائل سگنلز نہیں اس لیے تفصیلات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ قبل ازیں اسسٹنٹ کمشنر مچھ سمیع آغا نے بتایا کہ واقعہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کوئٹہ سے 80 کلومیٹر دور مچھ میں گشتری کے مقام پر پیش آیا جہاں نامعلوم شدت پسندوں نے کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے کان کنوں پر اس وقت حملہ کیا جب وہ سورہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے رہائشی کوارٹرز میں موجود کان کنوں کو شناخت کے بعد الگ کیا اور ہاتھ پاؤں باندھ کر انہیں تیز دھار آلے سے بے دردی کے ساتھ قتل کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مقام سڑک سے 10 کلومیٹر دور پہاڑوں کے اندر واقع ہے۔ واردات کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے۔ لیویز، پولیس اور ایف سی کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ لاشیں سول ہسپتال مچھ منتقل کی جارہی ہیں۔ دوسری طرف جائے حادثہ پر ہزارہ برادری کے افراد احتجاج بھی کررہے ہیں۔ مچھ بلوچستان کا کوئلے سے مالا مال علاقہ ہے جہاں کوئلہ نکالنے کے لیے سینکڑوں کانوں میں ہزاروں کان کن کام کرتے ہیں۔ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کی بڑی تعداد بھی یہاں کان کنی کے شعبے سے وابستہ ہے۔ مچھ اور اس کے اطراف میں کان کنوں اور ہزارہ برادری کے افراد پر اس سے پہلے بھی کئی حملے ہوچکے ہیں۔ کان کنوں پر حملوں میں زیادہ تر بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں ملوث ہوتی ہیں، جبکہ ہزارہ برادری کے افراد پر حملوں کی ذمہ داری ماضی میں مذہبی شدت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں






